لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرم محمد آصف کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ مجرم کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
جسٹس فاروق حیدر نے مجرم کی سزا کے خلاف جیل اپیل پر سماعت کی۔ مقدمے کے مطابق محمد آصف کے خلاف تھانہ شورکوٹ کینٹ، ضلع جھنگ میں 14 جولائی 2015ء کو طیب رضا کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ایڈیشنل سیشن جج شورکوٹ، ضلع جھنگ نے 10 مارچ 2021ء کو ملزم کو عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ دوسری جانب مدعی مقدمہ نے سزا عمر قید سے بڑھا کر پھانسی کرنے کی استدعا کی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمہ درج کرنے میں تاخیر سے استغاثہ کے مؤقف پر شک پیدا ہوا۔ عینی گواہ جائے وقوعہ پر اپنی موجودگی کی قابلِ قبول وجہ ثابت نہیں کر سکے۔ ابتدائی ایف آئی آر میں ملزم کا نام درج نہیں تھا اور بعد میں اسے نامزد کیا گیا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ میڈیکل رپورٹ زخموں کی نوعیت تو بتا سکتی ہے، لیکن بذاتِ خود حملہ آور کی شناخت نہیں کرتی۔ موٹر سائیکل کی شناخت اور پولیس ریکارڈ کے حوالے سے شواہد بھی ناکافی ہیں۔
پسٹل کے خول ملزم کی گرفتاری کے بعد فرانزک ایجنسی بھیجے گئے تھے۔ عدالت کے مطابق جو ثبوت ملزم کے سامنے نہیں رکھے گئے، انہیں اس کے خلاف سزا کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
عدالت نے مجرم کی فوجداری اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دیا، جبکہ مدعی کی جانب سے سزا میں اضافے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت نے ہتکِ عزت ٹربیونل دیر سے بنایا تو شہری کو سزا کیوں؟ لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ









