لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے ہتکِ عزت کے مقدمات سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خصوصی ٹربیونل کے قیام میں حکومتی تاخیر کا خمیازہ شہری کو نہیں بھگتنا چاہیے۔ عدالت نے ہتکِ عزت کا دعویٰ مدتِ معیاد کی بنیاد پر خارج کرنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ متعلقہ ٹربیونل کو بھجوا دیا۔
جسٹس مرزا وقاص رؤف اور جسٹس انوار حسین پر مشتمل بینچ نے محمد فاروق ملک کی اپیل منظور کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ہتکِ عزت کے دعوے پر میرٹ کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ اگر حکومت ہتکِ عزت کے مقدمات کے لیے خصوصی ٹربیونل قائم نہ کرے تو شہری مقررہ مدت کے اندر سول عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ قانون کسی شہری سے ایسے فورم سے رجوع کرنے کا تقاضا نہیں کر سکتا جو اس وقت قانونی طور پر قائم ہی نہ ہوا ہو۔
عدالت کے مطابق ریاست شہری کو قانونی حق دے کر اس کے نفاذ کے لیے خصوصی فورم مقرر کرے اور پھر خود اس فورم کے قیام میں تاخیر کرے تو اس انتظامی تاخیر کی سزا شہری کو نہیں دی جا سکتی۔
فیصلے کے مطابق اپیل کنندہ محمد فاروق ملک نے 28 جولائی 2025 کو سول عدالت سے رجوع کیا تھا، جبکہ پنجاب حکومت نے 22 ستمبر 2025 کو ہتکِ عزت ٹربیونلز قائم کیے۔ سول عدالت کی جانب سے دعویٰ واپس کیے جانے کے بعد اپیل کنندہ نے 13 نومبر 2025 کو متعلقہ ٹربیونل سے رجوع کیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ خصوصی ٹربیونل کے تاخیر سے قیام کی وجہ سے شہری کا قانونی حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔













