لاہور (پنجاب پوسٹ) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم اور جسٹس محمد امجد پرویز پر مشتمل بینچ نے قرار دیا ہے کہ جرمانے کی عدم ادائیگی پر قید کاٹنے کے باوجود مالی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی، عدالت نے نیب ملزم مہر محمد باقر کی جرمانے کی وصولی روکنے کی درخواست خارج کر دی۔
لاہور ہائیکورٹ نے 15 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا کہ نیب مقدمات میں جرمانے کی وصولی پر چھ سالہ قانونی مدت کی پابندی لاگو نہیں ہوتی۔ نیب آرڈیننس کے تحت جرمانے کی رقم بقایاجات مال گزاری کے طور پر وصول کی جا سکتی ہے۔
فیصلے کے مطابق جرمانے کی عدم ادائیگی پر ایک سال قید کاٹنے کے باوجود ملزم مالی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتا اور جرمانے کی وصولی کو دوہری سزا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بدعنوانی کے مقدمات میں جرمانے کی وصولی کی قانونی ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو 20 لاکھ روپے جرمانے کی وصولی کی کارروائی تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ جرمانے کی وصولی کے معاملے میں نیب کے خصوصی قانون کو فوقیت حاصل ہے۔










