لاہور(پنجاب پوسٹ) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور زون نے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر کی نگرانی میں سائبر کرائمز اور آن لائن فراڈ کے خلاف مختلف شہروں میں کارروائیاں کرتے ہوئے ایک معروف ٹک ٹاکر سمیت 15 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کارروائیوں میں خواتین کو ہراساں کرنے، جعلی شادی بیورو، جعلی بینکنگ اکاؤنٹس، ویزا فراڈ، غیر قانونی کال سینٹر اور شہریوں کا ذاتی ڈیٹا چوری کرنے والے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔
خاتون کی نازیبا ویڈیو اپ لوڈ کرنے کا الزام
لاہور میں کی گئی کارروائی کے دوران ٹک ٹاکر شہزیب سیالکوٹی کو ایک خاتون کی نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ملزم کے قبضے سے دو موبائل فون برآمد ہوئے ہیں، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھیجا جا رہا ہے تاکہ ڈیجیٹل شواہد محفوظ کیے جا سکیں اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ مواد مزید کہاں شیئر کیا گیا۔ ایجنسی کے مطابق خواتین کی نجی ویڈیوز یا تصاویر کو بلیک میلنگ، بدنامی یا شہرت کے لیے استعمال کرنا سنگین جرم ہے۔ قانونی کارروائی کے بعد ہی ملزم کا جرم ثابت یا مسترد ہو سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی میں این سی سی آئی اے نے آن لائن ویزا فراڈ گینگ گرفتار کر لیا
ملتان میں جعلی شادی بیورو کے خلاف کارروائی
ملتان میں جعلی شادی بیورو اور آن لائن فراڈ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چار ملزمان کو قابو کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ رشتوں کا جھانسہ دے کر شہریوں سے رقم بٹورتے تھے۔ عموماً ایسے گروہ پرکشش پروفائل اور جھوٹی معلومات کے ذریعے لوگوں کو اعتماد میں لیتے ہیں، پھر رجسٹریشن، ملاقات یا دیگر اخراجات کے نام پر رقم طلب کرتے ہیں۔ تحقیقات جاری ہیں کہ کتنے شہری متاثر ہوئے اور رقم کن اکاؤنٹس میں منتقل کی گئی۔
جعلی برانچ لیس بینکنگ اکاؤنٹس اور ویزا ایجنٹ فراڈ
ایک اور کارروائی میں جعلی برانچ لیس بینکنگ اکاؤنٹس استعمال کرنے اور خود کو ویزا ایجنٹ ظاہر کرکے شہریوں سے لاکھوں روپے ہتھیانے والے چھ ملزمان گرفتار کیے گئے۔ ان کے قبضے سے موبائل فونز اور سمیں برآمد ہوئی ہیں۔ بیرونِ ملک روزگار یا ویزے کے خواہش مند افراد کو اکثر جعلی وعدوں پر پھنسایا جاتا ہے اور رقم ایسے اکاؤنٹس میں منگوائی جاتی ہے جن کا سراغ لگانا مشکل ہو۔ برآمد شدہ سموں اور موبائلز کی مدد سے نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کچہری روڈ ملتان پر غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ
ملتان کی کچہری روڈ پر قائم غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپے کے دوران دو خواتین سمیت چار ملزمان گرفتار کیے گئے۔ موقع سے لیپ ٹاپ اور ڈیجیٹل ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ایسے مراکز کال، میسج یا آن لائن رابطوں کے ذریعے شہریوں کو دھوکا دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ضبط شدہ ریکارڈ سے متاثرین اور مالی لین دین کی تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔
یو اے ای ٹیلی کام کمپنیوں کے نام پر ڈیٹا حاصل کرنے والا نیٹ ورک
تحقیقات کے دوران متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنیوں کے نام پر شہریوں کا ڈیٹا حاصل کرنے والے ایک بڑے فراڈ نیٹ ورک کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ایسے گروہ خود کو معروف کمپنیوں کا نمائندہ ظاہر کرکے شناختی کارڈ نمبر، بینک تفصیلات یا او ٹی پی جیسی حساس معلومات حاصل کر لیتے ہیں، جنہیں بعد میں مالی فراڈ یا شناخت کی چوری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایجنسی اس نیٹ ورک کے سہولت کاروں اور بیرونی روابط کا کھوج لگا رہی ہے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر کا انتباہ
ایڈیشنل ڈائریکٹر لاہور زون عاطف امیر نے کہا کہ شہریوں کو سائبر جرائم سے محفوظ رکھنے کے لیے کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی خاتون کے خلاف نازیبا مواد استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ایسے عناصر کو کسی صورت رعایت نہیں ملے گی۔
شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر
کسی انجان شخص کو او ٹی پی، پن کوڈ یا بینک تفصیلات ہرگز نہ بتائیں۔
رشتے یا ویزے کے نام پر رقم بھیجنے سے پہلے ادارے کی تصدیق ضرور کریں۔
نجی تصاویر اور ویڈیوز کسی کے ساتھ شیئر کرنے میں احتیاط کریں۔
بلیک میلنگ یا فراڈ کی صورت میں فوری طور پر این سی سی آئی اے میں شکایت درج کروائیں۔









