محفوظ سفر، محفوظ پنجاب: لاہور ٹریفک پولیس کی کامیابیاں سندھ پولیس کے مستقبل کے افسران کے لیے مشعلِ راہ

لاہور(پنجاب پوسٹ)سندھ پولیس کے زیر تربیت ڈی ایس پیز کے وفد نے سی ٹی او آفس کا دورہ کیا، جہاں سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے افسران کو لاہور ٹریفک پولیس کے جدید نظام اور اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں افسران کو سمارٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، ای چالان اور ڈیجیٹل چالان کے نظام سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ پیپر لیس لائسنسنگ سسٹم، ڈیجیٹل مانیٹرنگ و سرویلنس اور سروس انفراسٹرکچر کے بارے میں بھی مفصل معلومات فراہم کی گئیں۔

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے بتایا کہ شہر لاہور میں 83 لاکھ سے زائد گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں جبکہ موٹرسائیکلوں کی تعداد کے تناسب سے لاہور سرفہرست ہے۔ روزانہ 10 لاکھ سے زائد گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں شہر میں داخل ہوتی اور باہر جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس سروسز کی فراہمی، ٹریفک ایجوکیشن اور انفورسمنٹ ان کی اولین ترجیحات ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب نے "محفوظ پنجاب، محفوظ سفر” کے ویژن کے تحت لاہور ٹریفک پولیس کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا ہے، اور جدید ٹیکنالوجی و سمارٹ پولیسنگ کے ذریعے بہترین سروس فراہم کی جا رہی ہے۔

خواتین کے محفوظ سفر اور احساسِ تحفظ کے لیے اسکوٹی ڈرائیونگ اسکولز اور کیو آر پینک بٹن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ حادثات کی روک تھام کے لیے دن کے اوقات میں ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کے چلنے پر پابندی عائد ہے۔

سی ٹی او لاہور کے مطابق ٹریفک قوانین پر عملدرآمد بڑھانے سے حادثات میں واضح کمی آئی ہے۔ ون وے کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے سے 90 فیصد حادثات میں کمی ہوئی، جبکہ ہیلمٹ مہم کے نتیجے میں ہیڈ انجری کے کیسز میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی۔

ٹریفک مسائل کے ممکنہ حل کے لیے ٹرانسپورٹرز، سماجی اور تاجر نمائندوں پر مشتمل کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ تجاوزات کے خاتمے کے لیے وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے۔ انہوں نے ٹریفک کے بہاؤ میں خلل کی بڑی وجوہات تجاوزات، نامناسب روڈ اسٹرکچر اور گاڑیوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافے کو قرار دیا۔

بریفنگ کے اختتام پر سی ٹی او لاہور نے وفد کے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔ وفد نے شہریوں کی سہولت اور ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے