لاہور(پنجاب پوسٹ)محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے سکول انفارمیشن سسٹم (SIS) میں طلبہ کے ب فارم نمبرز کے اندراج اور درستگی کے حوالے سے نئی اور اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ان ہدایات کے مطابق تمام سکولوں کو طلبہ کا ریکارڈ مکمل اور درست کرنے کے لیے محدود وقت دیا گیا ہے، جبکہ غلطی کی صورت میں مالی ذمہ داری براہِ راست سکول سربراہ پر عائد کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیدائش، وفات اور شادی کے سرٹیفکیٹس کے اجرا کا پرانا طریقہ تباہ، نیا نظام کیا ہے؟
10 دن کی ڈیڈ لائن
محکمے نے واضح کیا ہے کہ تمام طلبہ کے ب فارم نمبرز کا اندراج مقررہ مدت یعنی 10 دن کے اندر ہر صورت مکمل کیا جائے۔ سکول سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے سکول کے طلبہ کا ریکارڈ چیک کریں اور اندراج کا عمل بروقت مکمل کرنا یقینی بنائیں۔
نادرا سے تصدیق
SIS میں درج کیے گئے ب فارم نمبرز کی نادرا سے تصدیق کی جائے گی۔ اگر کسی طالب علم کا ب فارم نمبر غلط درج پایا گیا تو اس کی ذمہ داری متعلقہ سکول پر عائد ہوگی۔
نادرا کے اخراجات سکول سربراہ کے ذمے
غلط اندراج کی صورت میں نادرا کو ادا کیے جانے والے تمام اخراجات متعلقہ سکول کا سربراہ خود برداشت کرے گا۔ یعنی یہ بوجھ سرکاری خزانے یا محکمے پر نہیں بلکہ ذاتی طور پر سکول سربراہ پر پڑے گا۔
ب فارم نہ ہونے کی صورت میں متبادل
اگر کسی بچے کا ب فارم موجود نہیں ہے تو SIS میں بچے کے والد کا شناختی کارڈ نمبر درج کیا جائے۔
داخلے پر کوئی پابندی نہیں
محکمے نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ب فارم نہ ہونے کی بنیاد پر کسی بھی بچے کو سکول میں داخلے سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ہدایت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ دستاویزی مسائل بچوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔
سکول سربراہان کے لیے اہم نکات
ریکارڈ کی فوری جانچ پڑتال کریں
ب فارم نمبرز درج کرتے وقت دوہری تصدیق کریں
10 دن کی مدت ختم ہونے سے پہلے اندراج مکمل کریں
ب فارم نہ ہونے کی صورت میں والد کا شناختی کارڈ نمبر درج کریں۔













