لاہور (پنجاب پوسٹ) وزیر اعلیٰ پنجاب کے عوام دوست وژن کے تحت محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کی جانب سے صوبہ بھر میں گراں فروشی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ ایک ہفتے کے دوران اشیائے ضروریہ کی 4 لاکھ 37 ہزار 317 انسپکشنز کی گئیں، جن میں مقررہ نرخوں سے زائد قیمتیں وصول کرنے کی 19 ہزار 902 خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔
سیکرٹری فوڈ سیفٹی ڈاکٹر کرن خورشید کے مطابق گراں فروشی پر ایک کروڑ 6 لاکھ 27 ہزار 300 روپے جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ مقررہ نرخ نامے آویزاں نہ کرنے پر 2 ہزار 168 مقامات کی نشاندہی کی گئی۔ اوور چارجنگ اور دیگر خلاف ورزیوں پر 47 مقدمات درج اور 445 افراد گرفتار کیے گئے۔
روٹی کی فروخت میں گراں فروشی کی 4 ہزار 659 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں، جن پر 5 لاکھ 52 ہزار 500 روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ مرغی کے گوشت کی قیمتوں کی جانچ کے لیے 18 ہزار 774 انسپکشنز کی گئیں، جن میں زائد قیمتیں وصول کرنے کی 1 ہزار 418 خلاف ورزیاں سامنے آئیں اور 4 لاکھ 94 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
چینی کی قیمتوں کی چیکنگ کے دوران 12 ہزار 829 انسپکشنز کی گئیں، جن میں 574 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔ ٹماٹر کی فروخت میں گراں فروشی کی 769 خلاف ورزیاں سامنے آنے پر ایک لاکھ 25 ہزار 500 روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
سیکرٹری فوڈ سیفٹی ڈاکٹر کرن خورشید کے مطابق اوور چارجنگ اور قانونی خلاف ورزیوں پر 56 افراد کو گرفتار جبکہ 19 مقامات کو سیل کیا گیا۔ پنجاب بھر میں مہنگائی اور گراں فروشی کے تدارک کے لیے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور انفورسمنٹ ٹیموں کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔












