قتل کیس میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے شناخت نہ ہو سکی، لاہور ہائیکورٹ نے عمر قید کے مجرم راجہ شاہد کو بری کر دیا

لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرم راجہ شاہد کی اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور شک کا فائدہ دیتے ہوئے انہیں بری کر دیا۔

عدالت نے اپنے تحریری حکم میں سی سی ٹی وی فوٹیج کو فوجداری مقدمات میں اہم دستاویزی شہادت قرار دیا ہے۔جسٹس امجد رفیق نے مجرم کی اپیل پر تحریری حکم جاری کیا۔ مجرم کی جانب سے ایڈووکیٹ اسرار الحق عدالت میں پیش ہوئے۔

تحریری فیصلے کے مطابق راجہ شاہد کے خلاف تھانہ مغلپورہ میں 19 ستمبر 2022 کو رانا نعیم قیصر کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج نے 30 مارچ 2024 کو انہیں عمر قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اسی مقدمے کے شریک ملزمان عرب نبی عرف عارف خان، نصیب دولت شاہ عرف بلو پٹھان اور عرفان عرف ملنگ پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ ملزم راجہ شاہد کے خلاف قتل کا الزام شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں مقتول پر فائرنگ کرنے والے شخص کے چہرے کے خدوخال واضح نہیں تھے۔
عدالت نے قرار دیا کہ صرف جسمانی ساخت اور قد کی مشابہت کی بنیاد پر قتل کی سزا برقرار رکھنا قانونی طور پر درست نہیں۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزم کو بری کرنے کے لیے متعدد شکوک ضروری نہیں، ایک معقول شک بھی کافی ہے۔ عدالت کے مطابق ویڈیو فوٹیج میں چہرہ واضح نہ ہو تو ماہرین کی رپورٹ اور دیگر قابلِ اعتماد شواہد اہمیت رکھتے ہیں۔

عدالت نے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو ویڈیو سے ملزمان کی شناخت کے لیے جدید سہولیات فراہم کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے