وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت 37واں اجلاس: پنجاب میں منصوبوں پر کام کیسا جا رہا ہے، اور نئے آنے والے منصوبوں پر لائحہ عمل طے کیا گیا؟

لاہور(پنجاب پوسٹ)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کا 37واں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں جام شہادت نوش کرنے والے افسروں اور جوانوں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔ سینئر منسٹر مریم اورنگزیب کی خوشدامن کے ایصال ثواب کے لیے بھی دعائے مغفرت کی گئی۔


اب تک کا کام: اجلاس کو بتایا گیا کہ زرعی میکانائزیشن میں پنجاب نے غیر معمولی رفتار پکڑی ہے۔ گزشتہ 20 سال میں صرف 10 ہزار ٹریکٹر دیے گئے، جبکہ موجودہ حکومت کے ڈھائی سال میں 44 ہزار ٹریکٹر دیے جا رہے ہیں۔ 20 سال میں میکانائزیشن پر 3 ارب روپے خرچ ہوئے، جبکہ ڈھائی سال میں 15 ارب روپے لگائے گئے۔ اب تک 25 ہزار ٹریکٹر کاشتکاروں تک پہنچ چکے ہیں۔

گرین ٹریکٹر پروگرام کے لیے ڈھائی لاکھ سے زیادہ درخواستیں آنا اس اسکیم پر کسانوں کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ کابینہ نے ہائی پاور فیز 5 کے لیے سبسڈی منظور کی، جس میں 10 ہزار ٹریکٹرز پر حکومت 9.5 ارب روپے ادا کرے گی، جبکہ لوئر پاور فیز 4 کے تحت بھی 10 ہزار ٹریکٹر دیے جائیں گے۔ رجسٹریشن پر لیٹ فیس بھی معاف کر دی گئی۔


نئے منصوبے: اجلاس میں پیوٹ پروگرام کی منظوری دی گئی، جس سے پنجاب میں 1995 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس میں 1089 ارب روپے حکومتی اور 906 ارب روپے نجی شعبے کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ پروگرام میں انڈسٹریل انفراسٹرکچر، کلسٹر ڈویلپمنٹ، مسابقتی ایکسپورٹ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، سولر انسٹالیشن اور سکلز ڈویلپمنٹ شامل ہیں۔ ای کامرس، گارمنٹس، لیدر اور فٹ ویئر، سپورٹس گڈز کی ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن، کٹلری، سرامک اور فین انڈسٹری کی میٹریل ٹیسٹنگ لیب بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔

سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں ایگریکلچر پراسیسنگ پارک بنیں گے، جبکہ آلو اور آم کی ویلیو ایڈیشن، میٹ اور ملک ویلیو چین، ٹورازم اور ایکوا فارمنگ پر بھی کام ہوگا۔ تھل میں منکیرہ اور لیہ کے 10 ہزار ایکڑ رقبے پر ڈرپ ایریگیشن، سولر پاور اور واٹر سٹوریج کے لیے 7.6 ارب روپے سبسڈی دی جائے گی۔

عوامی سہولتیں: کابینہ نے اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کی منظوری دی، جس کے تحت بینک آف پنجاب 60 ارب روپے سے 40 ہزار قرضے دے گا، اور وزیراعلیٰ نے اس میں سٹیمپ ڈیوٹی کی تجویز مسترد کر دی۔ صحت کے شعبے میں ہسپتالوں کے طبی آلات فعال کرنے کے لیے واجبات کی فوری ادائیگی کا حکم دیا گیا اور ضروری فنڈز منظور ہوئے۔

پنجاب رنگ روڈ پر اوور سپیڈنگ، اوور لوڈنگ اور پیدل کراسنگ جیسی خلاف ورزیوں پر جرمانوں میں کئی گنا اضافہ کیا گیا۔ 20 اضلاع میں ہارٹی کلچر اتھارٹی کے قیام کی منظوری دی گئی، اور وزیراعلیٰ نے ہر ضلع میں پی ایچ اے بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ گلگت بلتستان کو چھ اور آزاد کشمیر کو پندرہ کلینک آن ویلز گاڑیاں عطیہ کی جائیں گی۔


آئندہ کے امکانات: پیوٹ پروگرام پر عملدرآمد کی صورت میں ایک لاکھ 62 ہزار سے زائد افراد کو روزگار ملنے کی توقع ہے۔ پراسیسنگ پارکس اور ویلیو ایڈیشن سے کسانوں کو اپنی اجناس کے بہتر دام ملنے اور برآمدات میں اضافے کا امکان ہے۔ ایکسپورٹ فنانسنگ اور ٹیسٹنگ و سرٹیفکیشن لیبز سے پنجاب کی مصنوعات کے عالمی منڈی تک رسائی کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔

ڈرپ ایریگیشن اور سولر پاور سے پانی اور بجلی کی بچت کے ساتھ تھل جیسے علاقوں میں پیداوار بڑھ سکتی ہے۔ اپنی چھت اپنا گھر سے ہزاروں خاندانوں کو اپنے گھر کا خواب پورا کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ بھرتیوں سے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر ہونے کی توقع ہے۔ تاہم ان منصوبوں کے نتائج کا انحصار بروقت اور شفاف عملدرآمد پر ہوگا۔

بھرتیاں: کابینہ نے مختلف محکموں میں بھرتیوں کی منظوری بھی دی، جن میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کی 219 آسامیاں، سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی 17 آسامیاں، پراونشل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سینٹر کی 79 آسامیاں، اور سکلز ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ ڈیپارٹمنٹ کی 16 آسامیاں شامل ہیں۔ ڈی جی خان اور راجن پور میں بارڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیوی کی بھرتیوں پر پابندی میں نرمی بھی کی گئی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے