لاہور ہائیکورٹ کا ایم ڈی کیٹ 2026 کے تمام سوالیہ پرچے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے امتحان میں امیدواروں سے سوالیہ پرچے واپس لینے کے خلاف درخواست پر تحریری حکم جاری کرتے ہوئے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) کو پنجاب میں ایم ڈی کیٹ 2026 کے تمام سوالیہ پرچے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ سوالیہ پرچوں کو داخلوں کا عمل مکمل ہونے تک عوامی طور پر قابلِ رسائی رکھا جائے اور انہیں ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ عدالت نے امیدواروں کو سوالیہ پرچوں پر اعتراضات اٹھانے کا موقع فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید احسن رضا کاظمی نے تحریری حکم جاری کیا۔ درخواست گزار نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے 10 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے مراسلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں جامعات کو ہدایت کی گئی تھی کہ 20 ستمبر 2026 کو ایم ڈی کیٹ کا امتحان مکمل ہونے کے بعد امیدواروں سے سوالیہ پرچے واپس لے لیے جائیں۔ درخواست گزار نے سوالیہ پرچے یو ایچ ایس لاہور کی ویب سائٹ پر دستیاب نہ کرنے کے اقدام کو بھی چیلنج کیا۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق سوالیہ پرچوں کے تمام کوڈز اور پیپر آئی ڈیز ویب سائٹ پر جاری کیے جائیں اور امیدواروں کو جوابی شیٹس پر نظرثانی کا مناسب موقع فراہم کیا جائے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ برسوں میں امیدواروں کو سوالیہ پرچے اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت تھی، جبکہ امریکہ، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور بھارت میں بھی امیدوار سوالیہ پرچے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔

یو ایچ ایس کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کو عدالت سے رجوع کرنے سے پہلے متعلقہ حکام سے رابطہ کرنا چاہیے تھا۔ تاہم، عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق یو ایچ ایس کی گائیڈ میں سوالیہ پرچے ساتھ لے جانے کی اجازت موجود تھی اور یونیورسٹی نے سوالیہ پرچے واپس لینے کے حوالے سے کوئی باضابطہ مراسلہ بھی جاری نہیں کیا تھا۔

پی ایم ڈی سی کے وکیل کے مطابق سوالات کے ذخیرے کی رازداری اور تحفظ برقرار رکھنے کے لیے ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ تاہم، فیصلے کے مطابق سوالات کا ذخیرہ ختم ہونے، امتحانی تحفظ، نقل یا جانچ کے عمل کو نقصان پہنچنے کے حوالے سے کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ وہ کسی بھی سرکاری ادارے کے غیر قانونی اور خلافِ آئین اقدام کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے سکتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کا تقاضا ہے کہ سرکاری ادارے اپنے اختیارات قانونی طور پر استعمال کریں اور امتیازی کارروائی سے گریز کریں۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ امتحان میں شریک تمام امیدواروں کو متاثر کرتا ہے اور سوالیہ پرچے واپس لینے کی کوئی مناسب وجہ بیان نہیں کی گئی۔ لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ اس کا حکم صرف پنجاب میں منعقد ہونے والے ایم ڈی کیٹ 2026 کے سوالیہ پرچوں تک محدود ہوگا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے