لاہور ہائیکورٹ، قتل کے مقدمے میں عمر قید پانے والا ملزم سات سال بعد بری

لاہور (پنجاب پوسٹ) ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور موقع پر گواہوں کی موجودگی ثابت نہ ہونے پر محمد اشرف کی اپیل منظور، عمر قید اور جرمانے کی سزا کالعدم قرار

لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم محمد اشرف کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس فاروق حیدر نے ملزم کی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ مقدمے کی ایف آئی آر ساڑھے چار گھنٹے کی تاخیر سے درج کی گئی، جبکہ استغاثہ مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی کوئی ٹھوس وجہ پیش نہیں کرسکا۔ مقتول کا پوسٹ مارٹم بھی تاخیر سے کیا گیا اور پولیس نے دستاویزات بھی تاخیر سے تیار کیں۔

فیصلے کے مطابق ملزم محمد اشرف کے خلاف منڈی بہاؤالدین پولیس نے 2019 میں مقدمہ درج کیا تھا۔ ملزم پر مقتول سکندر فردوس کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کا الزام تھا۔ ٹرائل کورٹ نے 2021 میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مدعیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعے کے روز وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ موٹر سائیکل پر اپنی بیٹی کے گھر جارہی تھی۔ راستے میں ملزم نے اپنے گھر کے باہر موٹر سائیکل روکنے کا اشارہ کیا، جس کے بعد وہ اس کے بیٹے کو گھر کے اندر لے گیا اور فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

فیصلے میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ وقوعے والے گاؤں میں پہلے مدعیہ کی بیٹی کا گھر آتا تھا، جبکہ ملزم کا گھر اس کے بعد تھا۔ ایسے میں مدعیہ کا بیٹی کے گھر کو پیچھے چھوڑ کر آگے جانے کی وجہ بھی سوالیہ نشان بنی۔

لاہور ہائیکورٹ نے مقدمے کے شواہد اور استغاثہ کے مؤقف کا جائزہ لینے کے بعد ملزم محمد اشرف کی عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کی اپیل منظور کرلی۔

دوسری جانب فیصلے میں مدعیہ کی جانب سے عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کے خلاف دائر اپیل خارج کردی گئی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے