لاہور (پنجاب پوسٹ) سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی سے پاکستان منی مزدا گڈز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت شیر علی نے کی۔ ملاقات میں منی مزدا ایسوسی ایشن کے مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
منی مزدا ٹرانسپورٹرز نے سی ٹی او لاہور کو اپنے مسائل اور تحفظات سے آگاہ کیا۔ سی ٹی او لاہور نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے ناجائز چالانوں کی شکایت کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب چالان کے ساتھ چالان کی وجہ کے شواہد بھی وائلیٹرز کو بھجوائے جا رہے ہیں تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
سی ٹی او لاہور نے واضح کیا کہ روٹ پرمٹ، فٹنس سرٹیفکیٹ اور ویلڈ لائسنس کے بغیر چلنے والی منی مزدا گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور میں 22 ہزار مزدا گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں، جبکہ 11 فیصد مہلک حادثات مزدا ڈرائیورز کی غفلت کے باعث رونما ہوئے۔
ملاقات میں غفلت اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ، اوور اسپیڈنگ اور ممنوعہ روڈز کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی پر اتفاق کیا گیا۔
منی مزدا گڈز ایسوسی ایشن نے اپنے تمام ڈرائیورز کے کوائف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ایسوسی ایشن نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ کریمنل ریکارڈ رکھنے والے اور بار بار حادثات کرنے والے ڈرائیورز کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سید عبدالرحیم شیرازی نے کہا کہ شہر میں مختص کردہ روڈز پر مقررہ لوڈ اور مقررہ اوقات کار کی خلاف ورزی نہیں کرنے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور باہمی مشاورت سے مسائل کا خاتمہ ممکن ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور: سیف سٹی کی مدد سے چوری اور اے ٹی ایم کارڈ کے فراڈ میں ملوث ملزمان گرفتار
شیر علی نے کہا کہ منی مزدا ایسوسی ایشن غیر قانونی اقدامات کی حوصلہ شکنی کرے گی۔ ملاقات میں مزدا ڈرائیورز کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دینے کے لیے خصوصی ریفریشر کورسز کروانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔










