فیکٹری کے گیٹ پر ڈاکٹر، گھر کی دہلیز پر علاج! وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزدوروں کو بڑا تحفہ، 46 لاکھ ورکرز کی صحت اب پہیوں پر

لاہور(پنجاب پوسٹ)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے محنت کشوں کے لیے سوشل سیکیورٹی موبائل ہیلتھ پروگرام کا افتتاح کر دیا ہے۔ 65 موبائل ہسپتالوں اور بائیکس پر مشتمل اس پروگرام کے تحت صحت کی سہولیات مزدور کی فیکٹری اور گھر کی دہلیز تک پہنچائی جائیں گی۔ پہلے مرحلے میں لاہور، قصور اور شیخوپورہ کے 46 لاکھ سے زائد صنعتی ورکرز اور ان کے اہل خانہ کو اس سے فائدہ ہوگا۔

افتتاحی تقریب میں وزیراعلیٰ نے سوشل سیکیورٹی موبائل ہسپتال، موبائل ڈینٹل ہسپتال، بائیکس اور سکوٹیز کا معائنہ کیا۔ انہوں نے موبائل بائیک پر موجود ادویات اور طبی آلات کے بارے میں بریفنگ لی اور وہاں رکھے ڈیوائس سے خود اپنا ٹمپریچر بھی چیک کیا۔ اس موقع پر انہیں سوشل سیکیورٹی ہسپتال کی تصویری تاریخ پر مشتمل کافی ٹیبل بک بھی پیش کی گئی۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ نے نواز شریف سوشل سیکیورٹی ہسپتال کے او پی ڈی اور رحمتہ للعالمین کارڈیک سینٹر کا دورہ کیا۔ انہوں نے او پی ڈی میں مریضوں سے بات چیت کر کے ان کا حال دریافت کیا اور ایک بزرگ مریضہ نے انہیں ڈھیروں دعائیں دیں۔ کارڈیالوجی وارڈ میں انہوں نے مریضوں کی عیادت کی، انہیں تسلی دی اور صحت یابی کی دعا کی۔ وارڈ میں بیمار ماں کی تیمارداری کرنے والی بیٹی کو انہوں نے سراہا اور پیار کیا، جبکہ کارڈیالوجی سینٹر کے ڈاکٹرز اور عملے کو شاباش بھی دی۔

وزیر محنت منشاء اللہ بٹ اور سیکرٹری دانش افضال نے وزیراعلیٰ کو پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ موبائل ہیلتھ یونٹس میں 10 موبائل ہسپتال، پانچ موبائل کلینک (ڈینٹل اور کارڈیک موبائل سمیت)، 40 موٹر سائیکلیں اور 10 سکوٹیز شامل ہیں۔ موبائل ہسپتالوں میں ڈاکٹر، لیڈی ڈاکٹر، ریڈیولوجسٹ، نرسیں، لیب اور ایکس رے ٹیکنیشنز، او پی ڈی، ریڈیولوجی اور پیتھالوجی لیب کے ساتھ ایکسرے، الٹراساؤنڈ اور بنیادی لیبارٹری کی سہولت موجود ہوگی۔ موبائل کلینکس میں ڈاکٹر، او پی ڈی، تشخیصی سہولیات، ادویات، فرسٹ ایڈ، ٹیلی میڈیسن اور آگاہی مواد شامل ہے۔

بریفنگ کے مطابق پنجاب میں پہلی مرتبہ موبائل ڈینٹل ہسپتال کے ذریعے ورکرز اور ان کے اہل خانہ کو دانتوں کے علاج کی سہولت ملے گی، جہاں ڈینٹل سرجنز، ٹیکنیشنز، ڈینٹل ایکس رے، انٹرا اورل کیمرا سسٹم اور ٹیلی میڈیسن بھی دستیاب ہوں گی۔ امراض قلب کے موبائل ہسپتال میں دل کے امراض کی ابتدائی تشخیص اور طبی مشاورت فراہم کی جائے گی۔ 40 بائیکس اور 10 سکوٹیز مختلف روٹس پر میڈیکل باکس، فرسٹ ایڈ، بنیادی ادویات اور آگاہی کے ساتھ ورکرز اور ان کے اہل خانہ کو سہولیات فراہم کریں گی۔


پیسی موبائل ہیلتھ پروگرام کے تحت "موبائل رومیٹک ہارٹ ڈیزیز (RHD) سکریننگ یونٹ” بھی شروع کیا جا رہا ہے، جو لاہور، شیخوپورہ اور قصور میں 29,845 کارخانوں، فیکٹریوں اور اداروں کا دورہ کرے گا۔ اسی طرح موبائل یونٹس صوبہ بھر کے ورکرز ویلفیئر سکولوں میں زیر تعلیم 54 ہزار بچوں میں دل کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے بھی استعمال ہوں گے۔ تمام موبائل ہیلتھ یونٹس کو پیسی کے ہیڈ آفس میں قائم ڈیجیٹل ہب سے منسلک کیا جائے گا، جہاں ڈیش بورڈ کے ذریعے ان کی فیلڈ میں موجودگی کی شفاف اور بروقت ریئل ٹائم مانیٹرنگ ہوگی۔

پروگرام کی توسیع کے حوالے سے بتایا گیا کہ مارچ 2027 تک گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، فیصل آباد، سرگودھا، ساہیوال، ملتان، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، رحیم یار خان اور راولپنڈی میں بھی یہ پروگرام شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔مریم نواز شریف نے کہا کہ 24 سوشل سیکیورٹی ہسپتالوں میں ایک کروڑ سے زائد صنعتی ورکرز اور ان کے اہل خانہ کو بہترین علاج اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ پی ای ایس ایس آئی کے تحت 250 میڈیکل آؤٹ لیٹس کے ذریعے بھی صوبے کے ورکرز کو طبی سہولیات دی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ موبائل ہیلتھ پروگرام سے پہلی مرتبہ ورکرز کو کام کی جگہ پر اور ان کے اہل خانہ کو دہلیز پر طبی سہولیات ملیں گی، جس سے بیماریوں کی بروقت تشخیص و علاج ممکن ہوگا اور ہسپتالوں پر دباؤ بھی کم ہوگا۔ انہوں نے رجسٹرڈ محنت کشوں کو دوران کار اور دہلیز پر طبی سہولیات کی فراہمی کے آغاز کو سنگ میل قرار دیا۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ فیکٹری ہو، تجارتی یا صنعتی یونٹ، جہاں محنت کش ہوگا وہاں سوشل سیکیورٹی کی موبائل ہیلتھ یونٹس موجود ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب سوشل سیکیورٹی موبائل ہیلتھ سروسز کا بنیادی مقصد رجسٹرڈ محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ تک معیاری طبی سہولیات پہنچانا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے