لاہور (پنجاب پوسٹ) عالمی یومِ ذہنی صحت کے سلسلے میں جنرل ہسپتال کے شعبہ نفسیات کے زیرِ اہتمام آگاہی تقریب اور واک کا انعقاد کیا گیا۔ پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم نے کہا کہ ذہنی مریضوں سے ہمدردانہ رویہ محض اخلاقی قدر نہیں بلکہ علاج کا بنیادی اور لازمی حصہ ہے، مریض کی بات ہمدردی اور تحمل سے سننا نصف علاج کے برابر ہے۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم نے کہا کہ ذہنی صحت بھی جسمانی صحت کی مانند مساوی توجہ کی متقاضی ہے۔ متاثرہ افراد کو تنقید، طنز اور سماجی تنہائی کا سامنا کروانے کے بجائے احترام، اعتماد اور حوصلہ افزائی کی فضا فراہم کی جانی چاہیے۔ مریض کو توجہ سے سننے اور سمجھنے کا احساس اس میں زندگی کی طرف لوٹنے کی امید پیدا کرتا ہے اور شفا یابی کے عمل کو تیز بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سازی اور طریقہ علاج میں مریضوں کے حقیقی تجربات اور آراء کو شامل کرکے نظام میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

اس موقع پر ایم ایس جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین اور سربراہ شعبہ نفسیات پروفیسر ڈاکٹر فائزہ اطہر نے کہا کہ بیشتر نفسیاتی امراض بروقت تشخیص اور مناسب رہنمائی سے مکمل طور پر قابلِ علاج ہیں۔ ادویات کے ساتھ سائیکو تھراپی، کاگنیٹو بیہیویئرل تھراپی، ٹیلی سائیکیاتری اور ڈیجیٹل ہیلتھ ٹولز جیسے جدید طریقوں کا استعمال علاج میں بہترین نتائج فراہم کرتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین اور پروفیسر ڈاکٹر فائزہ اطہر نے کہا کہ مسلسل اداسی، بے چینی، نیند میں خلل، بھوک میں تبدیلی اور غیر معمولی تھکاوٹ جیسی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔ انہوں نے نفسیاتی امراض سے متعلق منفی رویوں اور معاشرتی بدنامی کے تصور کو ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: "بابا کو نہ بتانا، وہ مر جائیں گے” اسلام آباد کی طالبہ کی دردناک کہانی
تقریب میں پروفیسر محسن ظہیر، پروفیسر نازش ثقلین، پروفیسر آمنہ احسن چیمہ، ڈاکٹر سائرہ ذیشان، ڈاکٹر سید عبدالرافع، ڈاکٹر عبدالعزیز، ڈاکٹر ماہین رضوان، عالیہ صدف، ڈاکٹرز، نرسز، میڈیکل طلبہ اور مریضوں کے اہل خانہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کے اختتام پر آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا، جس میں شرکاء نے ذہنی صحت سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے اور مریضوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر عوام میں آگاہی پمفلٹس بھی تقسیم کیے گئے جبکہ کیک بھی کاٹا گیا۔











