لاہور (پنجاب پوسٹ) پاکستان میں ذہنی صحت کا بڑا چیلنج سامنے آیا ہے جہاں 3 کروڑ 24 لاکھ افراد کو علاج کی ضرورت تربیت یافتہ ماہرین کی کمی اور محدود سہولیات ذہنی صحت کی دیکھ بھال میں بڑی رکاوٹ ہیں جسکی وجہ سے لاکھوں افراد کو مدد کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنا صحت کے شعبے کے اہم چیلنجز میں شامل ہے، جہاں لاکھوں افراد کو نفسیاتی مدد اور علاج کی ضرورت ہے، تاہم سہولیات تک محدود رسائی اور تربیت یافتہ ماہرین کی کمی کے باعث بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے بروقت دیکھ بھال حاصل کرنا مشکل ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق عالمی ادارہ صحت کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 24 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی دیکھ بھال درکار ہے لیکن صرف 5 فیصد آبادی ان سہولیات تک رسائی حاصل کر پاتی ہے یہ صورت حال ملک میں ذہنی صحت کی خدمات کو عام کرنے اور علاج تک رسائی بہتر بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ذہنی صحت کا علاج ضروری، مریض کو کن علامات کے بعد ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے؟
پاکستان میں ماہرینِ نفسیات کی دستیابی بھی ایک اہم مسئلہ ہے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر ایک لاکھ افراد کے لیے ماہرینِ نفسیات کی تعداد صرف 0.19 ہے، جبکہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں یہ اوسط 7 ہے ماہرین کی اس کمی کے باعث ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کو مناسب مدد کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے۔
ذہنی صحت کے مسائل کے اثرات صرف انفرادی زندگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کا تعلق معاشرتی بہبود، معاشی سرگرمیوں اور قومی سطح پر ترقی سے بھی ہے اسی لیے ذہنی صحت کو صحت عامہ کے نظام کا اہم حصہ بنانے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس کے مطابق ڈپریشن اور اضطراب جیسے مسائل کے علاج پر خرچ کیے جانے والے ہر ایک ڈالر کے بدلے بہتر صحت اور پیداواری صلاحیت کی صورت میں چار ڈالر کے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ذہنی صحت کی دیکھ بھال کو محض علاج کے بجائے ایک اہم معاشرتی اور معاشی ضرورت کے طور پر دیکھنے کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔
بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت بھی خصوصی توجہ کی متقاضی ہے پاکستان میں یونیسف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے اس حوالے سے مسائل کی روک تھام، ابتدائی مرحلے میں شناخت اور مناسب دیکھ بھال کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
پاکستان میں قومی ذہنی صحت پالیسی 2026 تا 2035 متعارف کرائے جانے کے ساتھ اس شعبے میں خدمات کی بہتری کے لیے ایک پالیسی فریم ورک سامنے آیا ہے پالیسی کے تحت صوبائی حکومتوں کے تعاون سے اسکولوں، بنیادی مراکز صحت اور کمیونٹی کی سطح پر اقدامات کرنے پر توجہ دی جائے گی، تاکہ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔
ذہنی صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ علاج اور مشاورت کی خدمات کو بنیادی صحت کے نظام کا حصہ بنایا جائے، عوام میں آگاہی بڑھائی جائے اور تربیت یافتہ ماہرین کی دستیابی بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔ اس طرح ذہنی صحت کے مسائل کی بروقت شناخت اور متاثرہ افراد کی دیکھ بھال کے امکانات بہتر بنائے جا سکتے ہیں











