ملتان (پنجاب پوسٹ) پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔
ملتان میں پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے پریس کانفرنس میں کہا حکومت بروقت فیصلے نہیں کرتی، ایک فصل نقصان میں جائے تو اگلی تین فصلیں متاثر ہوتی ہیں، ہم زراعت میں مسلسل پیچھے جا رہے ہیں، ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ ہمیں پیداواری لاگت پر 25 فی صد منافع دیا جائے، ہمیں آئی ایم ایف کی شرط کا کہہ کر فصلوں کا اچھا ریٹ نہیں دیا جاتا، آج عام آدمی کو گندم نہیں مل رہی، گندم کا اچھا ریٹ ملے گا تو کسان گندم کی فصل کاشت کرے گا، حکومت نے 4500 روپے من گندم کا ریٹ مقرر کیا ہے۔
صدر کسان اتحاد نے کہا گنے کی قیمت ابھی تک کسان کو نہیں ملی، جب کہ گنے کی اس سال 16 فی صد زیادہ پیداوار ہوئی ہے، ملکی تاریخ میں اتنا زیادہ گنا کبھی کاشت نہیں ہوا، حکومت بروقت فیصلے کیوں نہیں کرتی، گنے کے کاشتکار کو رات کو نیند نہیں آ رہی۔
خالد محمود کھوکھر نے کہا 2017 میں گنے کے کاشتکاروں کا استحصال کیا گیا، حکومت نے بروقت چینی برآمد نہیں کی اور غیر ضروری تاخیر کی گئی، کاشتکاروں کو معاشی نقصان پہنچانے کے بعد چینی برآمد کی گئی، پاکستان میں زراعت کے شعبے پر سیاست کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں فوڈ سیکیورٹی پہلے نمبر پر جا چکی ہے اور ہمارے حکمران آٹے پر سیاست کرتے ہیں، جب کہ دیگر ممالک زراعت پر بہت زیادہ سبسڈی فراہم کر رہے ہیں۔










