لاہور (پنجاب پوسٹ) جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کو "بھتہ” قرار دینے کے باوجود اسے ختم کرنے پر آمادہ نہیں، اور اگر وزیراعظم لیوی ختم کرنے کا اعلان نہیں کرتے تو ان سے ملاقات کے بجائے سڑکوں پر ملاقات کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ لیوی کے خاتمے کی بات کی جائے تو معاملہ آئی ایم ایف کی اجازت سے مشروط کر دیا جاتا ہے، جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جاری رہتا ہے۔ ان کے مطابق پیٹرولیم لیوی ٹیکس کا آئی ایم ایف سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وزیر کہتے ہیں کہ لیوی ختم نہیں ہو سکتی تو پھر شہباز شریف جماعتِ اسلامی سے ملنا کیوں چاہتے ہیں۔ جب پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا ایجنڈا ہی نہیں تو ملاقات کی کیا ضرورت ہے۔
حکومتی اخراجات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کے لیے تیس کروڑ روپے لگائے جا رہے ہیں اور ان کے پیٹرول اور جہازوں پر آنے جانے کے اخراجات بھی دیکھے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے سپرد کر دیا گیا ہے، پھر سود کم کیوں نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت لوگوں کی جیبوں پر ڈاکا ڈالتی ہے اور پیکج کا اعلان کر کے صرف پچیس لاکھ افراد کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے، جبکہ عوام پچیس کروڑ ہیں اور ان کے لیے حکومت کے پاس کچھ نہیں۔
تیل کی قیمتوں کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سعودی عرب ایشیائی ممالک کے لیے پانچ ڈالر فی بیرل ریلیف دے گا۔ ان کے مطابق پاکستان میں آئل ریفائنریز اپنی پیداواری صلاحیت پر کام نہیں کر رہیں، اور اگر ایک ریفائنری بھی اپنی صلاحیت ستر فیصد تک لے جائے تو پیٹرول پر سالانہ انہتر ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔
زرعی شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گندم کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے اور کسان کو گندم کا ریٹ ہی نہیں ملا۔ حکومت نے 3900 روپے کا اعلان کیا، مگر اس کے بعد خریداری نہیں کی گئی۔
احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف کل اوکاڑہ میں جماعتِ اسلامی جلسہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دو دن بعد میٹنگ کے بعد لانگ مارچ کا دوبارہ ملتان سے آغاز کیا جائے گا اور قافلے چاروں اطراف سے اسلام آباد جائیں گے۔ ان کے مطابق جماعتِ اسلامی کے کارکن چارج ہیں اور سیدھا اسلام آباد جانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آگ اور فساد چاہتی ہے مگر جماعتِ اسلامی ایسا کام نہیں کرے گی۔ حکومت عزت کے ساتھ پیٹرولیم لیوی ختم کرے، ورنہ عوامی دباؤ سے یہ لیوی ختم کروائی جائے گی۔









