سیاسی رہنماؤں کو مختلف ادوار میں قید کا سامنا کرنا پڑا، ان حالات اور وجوہات کو سمجھنا ہوگا، اسپیکر پنجاب اسمبلی

لاہور (پنجاب پوسٹ) اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو مختلف ادوار میں قید کا سامنا کرنا پڑا، ان حالات اور وجوہات کو سمجھنا ہوگا، قومی مکالمے کا مقصد محض سامعین کو متاثر کرنا نہیں بلکہ مسائل کا عملی حل تلاش کرنا ہے۔

یونیورسٹی آف لاہور میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ نسلوں کے درمیان مکالمے میں شناخت کے بحران اور اختلافات کی بنیاد پر پیدا ہونے والے مسائل پر بات کرنا ہوگی۔ قومی مکالمے میں تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ مقبولیت حاصل کرنے کے لیے قید و بند کو سیاسی بیانیے سے جوڑنا ایک مخصوص نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔ سیاسی مقبولیت حاصل کرنے کے بجائے عملی مثالوں اور قابلِ عمل تجاویز پر گفتگو ہونی چاہیے۔ سیاسی رہنماؤں کی قید اور اس کے پس پردہ وجوہات و نتائج کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے سابقہ حکومتی دور میں آئینی انحطاط کی ذمہ داری کے تعین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق حکومت صرف ایک شخص نہیں بلکہ پوری کابینہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ آئینی نظام کے زوال کی ذمہ داری صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ پوری کابینہ پر عائد ہوتی ہے، جبکہ آئینی انحطاط کے معاملے پر متعلقہ حکومتی قیادت کو بھی جواب دہ ہونا چاہیے۔

ملک محمد احمد خان نے سیاسی تاریخ، آئینی ذمہ داریوں اور جمہوری نظام کو درپیش مسائل پر عملی مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی مکالمے کو محض سیاسی بیانیے تک محدود رکھنے کے بجائے مسائل کے حل اور قابلِ عمل تجاویز پر توجہ دینی چاہیے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے