خواتین کے تعلیمی داخلوں پر فخر کافی نہیں، انہیں عملی زندگی میں مواقع بھی دینا ہوں گے، سویرہ مجیب الرحمٰن

لاہور (پنجاب پوسٹ) سویرہ مجیب الرحمٰن نے ملک کے تعلیمی نظام اور خواتین کو درپیش مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکولوں سے باہر بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پاکستان کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ ان کے مطابق داخلوں کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ بچے حقیقت میں کیا سیکھ رہے ہیں، کیونکہ تعلیمی اداروں میں بچوں کی بڑی تعداد کے باوجود نتائج تسلی بخش نہیں۔

خواتین کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیمی داخلوں پر فخر کافی نہیں، خواتین کو عملی زندگی میں مواقع بھی دینا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے باوجود افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت محدود ہے اور انہیں اکثر ایسے پیشے اختیار کرنا پڑتے ہیں جہاں وہ خود کو محفوظ سمجھتی ہیں۔

لڑکیوں کو صرف تدریس تک محدود رکھنے کے بجائے تمام شعبوں میں آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے محفوظ ماحول اور آزادانہ نقل و حرکت کو ضروری قرار دیا اور کہا کہ بیرونِ ملک خواتین آزادانہ گھوم پھر سکتی ہیں، مگر اپنے معاشرے میں انہیں پابندیوں کا سامنا ہے۔

سویرہ مجیب الرحمٰن نے گھر والوں کی حوصلہ افزائی کو لڑکی کی کامیابی کا بڑا ذریعہ قرار دیا۔ ان کے بقول والدین کی حمایت مل جائے تو لڑکی کو آگے بڑھنے سے روکنا آسان نہیں رہتا۔ شادی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فیصلوں میں لڑکیوں کی تعلیم، ملازمت اور ترجیحات کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ والدین کو شادی سے پہلے بیٹیوں کی پیشہ ورانہ خواہشات معلوم کرنی چاہئیں، اور شادی کے بعد ان کی زندگی اور فیصلوں پر غیر ضروری پابندیاں نہیں لگنی چاہئیں۔

اداروں کے رویوں پر انہوں نے سفارش کے نظام کو میرٹ اور انصاف کے لیے بڑا سوال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معمولی دفتری معاملات اور جائز کاموں کے لیے بھی تعلقات اور سفارش کا سہارا لینا پڑتا ہے، جو افسوس ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 1971 کے واقعات سمیت اپنی تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے، کیونکہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کے بجائے انہیں دہرایا جا رہا ہے۔ ملک کو نمائشی اقدامات کے بجائے حقیقی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے تقابل میں خواندگی اور خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت جیسے اشاریوں کو دیکھنے پر بھی زور دیا۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے مسائل کا حل صرف تقاریر نہیں بلکہ عملی اقدامات اور پالیسیوں میں تبدیلی ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے محفوظ ماحول، خاندانی تعاون اور مساوی مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے