پنجاب یوتھ انوویشن اینڈ انکیوبیشن کمپیٹیشن 2026، مقابلے میں صوبہ بھر سے 51 جامعات نے 154 جدید اور تخلیقی منصوبے پیش کیے

لاہور (پنجاب پوسٹ) محکمہ داخلہ پنجاب میں سینٹر آف ایکسیلینس برائے انسدادِ انتہا پسندی کے بورڈ آف گورنرز کا پانچواں اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی وزیر اور چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق نے کی۔ اجلاس میں نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ، انتہا پسندی کے خاتمے اور معاشرے میں امن و رواداری کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، سیکرٹری قانون آصف بلال لودھی، سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ، سپیشل سیکرٹری داخلہ زینب خان، چیف کوآرڈینیشن آفیسر غلام صغیر شاہد، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ پروفیسر عائشہ رشید، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل عبدالرؤف، ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن، ایڈیشنل سیکرٹری انفارمیشن، ڈپٹی سیکرٹری فنانس اور کنسلٹنٹس سید طاہر رضا بخاری اور سہیل رضا سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات سے پروفیسر ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں بورڈ آف گورنرز کے چوتھے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی، جبکہ متعلقہ حکام نے ان پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی پیش کی۔ بورڈ نے سینٹر آف ایکسیلینس کے لیے فنڈ کے قیام اور 500 ملین روپے کی سیڈ منی کی منظوری بھی دی۔

اجلاس میں سینٹر آف ایکسیلینس کے زیرِ اہتمام ہونے والے پنجاب یوتھ انوویشن اینڈ انکیوبیشن کمپیٹیشن 2026 کی رپورٹ پیش کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ مقابلے میں صوبہ بھر کی 51 جامعات نے 154 جدید اور تخلیقی منصوبے پیش کیے۔ ماہرین پر مشتمل ٹیکنیکل ایویلیوایشن کمیٹی نے شفاف جانچ پڑتال کے بعد 50 بہترین منصوبوں کو شارٹ لسٹ کیا اور نوجوانوں کو اپنے منصوبے پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔

مقابلے میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ نے بورڈ کے سامنے اپنے منصوبے پیش کیے۔ پہلی پوزیشن یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) کی طالبات نے ڈی این اے ٹیسٹ کی لاگت میں کمی اور معیار میں بہتری کے منصوبے پر حاصل کی۔ دوسری پوزیشن فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی طالبات نے کینسر کی تشخیص اور علاج کی لاگت کم کرنے کے منصوبے پر حاصل کی، جبکہ تیسری پوزیشن سپیریئر یونیورسٹی کے طالب علم نے بچوں کے موبائل فون پر قابلِ اعتراض مواد کو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے کنٹرول کرنے کے منصوبے پر حاصل کی۔

مقابلے میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو بالترتیب 10 لاکھ، ساڑھے 7 لاکھ اور 5 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کے مطابق پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو فرانزک سائنس اتھارٹی، محکمہ صحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ منسلک کیا جائے گا تاکہ ان کے منصوبوں کو عملی شکل دینے میں مدد مل سکے۔

بورڈ نے نوجوانوں میں پیغامِ امن عام کرنے کے لیے محکمہ انفارمیشن اینڈ کلچر کے توسط سے آگاہی پروگرام منعقد کرنے کی ہدایت کی۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی نوجوانوں کے لیے تقاریر، تھیٹر ڈراموں، مضمون نویسی اور پوسٹر سازی کے مقابلے منعقد کرانے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ حکومتِ پنجاب شدت پسندی کے خاتمے اور پُرامن معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ سینٹر آف ایکسیلینس برائے انسدادِ انتہا پسندی معاشرے کی فلاح کے لیے کام کر رہا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کے تحت انتہا پسندی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

خواجہ سلمان رفیق نے مزید کہا کہ پنجاب یوتھ انوویشن اینڈ انکیوبیشن کمپیٹیشن 2026 نوجوانوں میں خوداعتمادی کو فروغ دینے کے ساتھ نئے کاروباری منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ معاشرے میں امن، رواداری اور برداشت کے فروغ میں نوجوانوں اور سول سوسائٹی کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ روشن، پُرامن اور خوشحال پاکستان کی تشکیل میں باصلاحیت نوجوان ہراول دستہ ثابت ہوں گے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے