لاہور (پنجاب پوسٹ) صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں جمہوریہ کوریا کے وفد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر محمود ایاز، سی ای او میو ہسپتال پروفیسر شہزاد انور، پروفیسر علی مدیح ہاشمی، ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر عبدالمدبر ریحان، پی آئی ٹی بی افسران اور دیگر فیکلٹی ممبران موجود تھے۔ کورین وفد میں مینجنگ ڈائریکٹر کے ریری ڈاکٹر سیہون پارک، ڈائریکٹر جنجیئن سونگ، فرسٹ سیکرٹری آف منسٹری مون سنگ، سیکنڈ سیکرٹری آف منسٹری اور کنسلٹنٹ ینسیو چو شامل تھے۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کورین وفد کو کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے حکومت پنجاب سے تعاون پر جمہوریہ کوریا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق صوبہ بھر میں نئے چلڈرن ہسپتال، کارڈیک ہسپتال اور کینسر ہسپتال بنائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب مریضوں کو اربوں روپوں کے ٹرانسپلانٹس کی مفت سہولیات بھی فراہم کر رہی ہے۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں جمہوریہ کوریا اور پاکستان پنجاب بحالیاتی انجینئرنگ منصوبے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت انتہائی خوش آئند ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر حکومت پنجاب اس پراجیکٹ کے حوالے سے جمہوریہ کوریا سے مکمل تعاون کرے گی۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ جسمانی معذوری، بحالیاتی انجینئرنگ اور علومِ صحت کے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
وزیر صحت نے بتایا کہ کورین وفد نے ایک مختصر پریزنٹیشن پیش کی، جس میں میو ہسپتال کی مصنوعی اعضا اور آرتھوٹکس ورکشاپ کی تاریخ اور ارتقا، مصنوعی اعضا کے ذریعے بحالی کے موجودہ تقاضوں اور درپیش چیلنجز، نیز مجوزہ منصوبے کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ وفد نے منصوبے کی مدت، مقاصد اور متوقع نتائج کے بارے میں بھی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر مجموعی طور پر 40 لاکھ امریکی ڈالر کی مالیت کی گرانٹ فراہم کی جائے گی۔
خواجہ سلمان رفیق کے مطابق منصوبے کے تحت میو ہسپتال میں مصنوعی اعضا اور آرتھوٹکس ورکشاپ کی جامع اپ گریڈیشن اور اسے جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، جدید ترین آلات کی خریداری اور تنصیب کی جائے گی، جبکہ تربیت یافتہ ماسٹر ٹرینرز کی استعدادِ کار میں اضافے کے لیے جمہوریہ کوریا میں تربیت اور کورین ماہرین کے میو ہسپتال کے دوروں کے ذریعے تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔ منصوبے کے ابتدائی ہدف کے طور پر تقریباً 800 ایسے افراد کو جدید اور اعلیٰ معیار کے مصنوعی اعضا فراہم کیے جائیں گے جن کے جسمانی اعضا کسی وجہ سے کاٹنے پڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد نہ صرف جدید مصنوعی اعضا اور بحالی کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانا ہے بلکہ مقامی سطح پر مصنوعی اعضا اور آرتھوٹکس کی خدمات کے لیے پائیدار اور خود کفیل استعداد بھی پیدا کرنا ہے۔ یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی منصوبے کے مجموعی نفاذ کی قیادت کرے گی، جس کے لیے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) کے ذریعے منصوبے کی نگرانی کی جائے گی، جبکہ تعلیمی سرگرمیوں اور استعدادِ کار میں اضافے سے متعلق امور بھی یونیورسٹی کے زیرِ نگرانی ہوں گے۔
مینجنگ ڈائریکٹر کے ریری ڈاکٹر سیہون پارک نے اس پراجیکٹ کے حوالے سے حکومت پنجاب کے تعاون کو لائق تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے صحت کے منصوبے قابل ستائش ہیں۔وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر محمود ایاز نے بھی کورین وفد کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر مستحق افراد، خصوصاً جسمانی اعضا سے محروم افراد اور معذور اشخاص کی نشاندہی اور انہیں متعلقہ خدمات کے لیے ریفر کرنے میں معاونت فراہم کرے گا، جبکہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ منصوبے سے متعلق ڈیٹا بیس کی تیاری، انتظام و انصرام اور ضروری انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی میں تعاون کرے گا۔









