لاہور(پنجاب پوسٹ)محکمہ اوقاف و مذہبی امور کی جانب سے کی گئی باقاعدہ انکوائری میں سابق خطیب داتا دربار مفتی محمد رمضان سیالوی کے خلاف مالی بدعنوانی، خرد برد، فراڈ، جعلسازی اور مس کنڈکٹ کے الزامات ثابت ہو گئے ہیں، جس کے بعد انہیں مختلف سزاؤں کا حکم سنایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مفتی محمد رمضان سیالوی کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت باقاعدہ انکوائری مکمل کی گئی۔ انکوائری افسر اور پرسنل ہیئرنگ افسر نے عائد کردہ الزامات اور متعلقہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ جائزے کے دوران داتا دربار عرس اور عالمی تصوف کانفرنس کے مالی معاملات میں بے ضابطگیاں ثابت ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں:داتا دربار ہسپتال میں ڈے کیئر سنٹر کا آغاز، جنرل میڈیکل وارڈ بھی فعال
انکوائری کے نتیجے میں مفتی رمضان سیالوی کو 26 لاکھ 58 ہزار 83 روپے ریکوری کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں 5 سال کے لیے گریڈ بی ایس 19 سے بی ایس 18 میں تنزلی کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔
احکامات کے تحت مفتی رمضان سیالوی کو فوری طور پر زونل خطیب اوقاف ڈیرہ غازی خان تعینات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مزید برآں، لاہور اور اس کے مضافاتی علاقوں میں ان کی 5 سال تک تعیناتی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مفتی رمضان سیالوی کو مستقبل میں کسی بڑی درگاہ یا اس سے ملحقہ مسجد میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔











