لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے 85 فیصد زیادہ ہو گئی، لاہور سمیت صوبے کی 44 جیلوں میں 72 ہزار 335 قیدی موجود ہیں، جبکہ جیلوں کی مجموعی گنجائش صرف 39 ہزار 200 ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران قیدیوں کی تعداد میں 20 ہزار سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق لاہور کی ڈسٹرکٹ جیل میں 2 ہزار 120 قیدیوں کی گنجائش ہے، تاہم وہاں 6 ہزار 256 قیدی موجود ہیں۔ سنٹرل جیل لاہور میں 2 ہزار 692 کی گنجائش کے مقابلے میں قیدیوں کی تعداد 3 ہزار 300 تک پہنچ گئی ہے۔ سب سے زیادہ اوور کراؤڈنگ سنٹرل جیل راولپنڈی میں ہے، جہاں 2 ہزار 174 کی گنجائش کے مقابلے میں 8 ہزار 329 قیدی موجود ہیں۔
صوبے کی جیلوں میں 69 ہزار 500 سے زائد مرد، ایک ہزار 500 سے زائد خواتین اور 600 سے زائد کم عمر قیدی موجود ہیں۔ ان میں 57 ہزار سے زائد انڈر ٹرائل جبکہ 15 ہزار سے زائد سزا یافتہ قیدی شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور فیصل آباد کی جیلوں پر اوور کراؤڈنگ کا سب سے زیادہ بوجھ ہے۔ ذرائع کے مطابق جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی کے باعث مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں قیدیوں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافے کے باعث نئی جیل کے قیام کی سمری گزشتہ دس سال سے زیر التوا ہے، جبکہ گزشتہ تین سال کے دوران صوبے کی جیلوں میں 20 ہزار سے زائد قیدیوں کا اضافہ ہوا ہے۔










