لاہور (پنجاب پوسٹ) جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ریاست کو طاقت کی بنیاد پر چلانے کے تجربات جہاں بھی کیے گئے، وہاں نتائج پہلے سے زیادہ خراب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک انتظامی صلاحیت نہ ہو اور نظام کو عمرانی معاہدے یعنی آئین و دستور کی گائیڈ لائن پر نہ چلایا جائے، عوام مطمئن نہیں ہو سکتے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ صحت، تعلیم، صنعت کی ترقی اور زراعت کو مستحکم کرے اور قیمتوں کو عام آدمی کی پہنچ میں رکھنے کے لیے کنٹرول کرے۔ ان کے مطابق طاقت کے استعمال سے معاملات ٹھیک نہیں ہوتے بلکہ یہ ریاست اور عوام دونوں کے لیے کمزوری کا ذریعہ بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب سرکاری محکمے اور ادارے لوگوں کے لیے سہولت کے بجائے عذاب بن جائیں تو حالات خراب ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسری حکومتوں کے ماڈل نقل نہیں کیے جا سکتے، ہمیں اپنی طرف توجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ آئین، جمہوریت اور گڈ گورننس پر بات تو سب کرتے ہیں لیکن عمل درآمد کوئی نہیں کرتا۔ سیاسی اور معاشی استحکام دونوں مل کر ہی ملک میں استحکام کا ذریعہ بنتے ہیں۔
نئے صوبوں کا معاملہ
لیاقت بلوچ نے کہا کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بنانا غیر آئینی نہیں، لیکن انہیں نافذ کرنے کے لیے ایسا راستہ اختیار کرنا جس سے ریاست میں تکرار اور تصادم شروع ہو جائے، درست نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سندھ اسمبلی سے زہر آگے بڑھایا گیا تو پھر باقی صوبوں میں بھی صوبوں کے معاملے پر بات کرنا آسان نہیں رہے گا۔
بلدیاتی نظام
ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو ان کے حقوق ملیں اور مسائل دہلیز پر حل ہوں، یہ صرف بااختیار بلدیاتی نظام سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ ملک میں اپنا نظام لاتی ہے اور کوئی بھی سیاسی جماعت بااختیار بلدیاتی نظام نہیں لا سکی۔
قومی ڈائیلاگ کی ضرورت
لیاقت بلوچ نے کہا کہ تمام جمہوری قوتوں کے مل کر آمرانہ نظام کو گرانے کا فارمولا اب پرانا ہو چکا ہے، اب قومی ڈائیلاگ کے ذریعے قومی ترجیحات کا تعین ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال کے دوران حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں لیکن اسمبلیاں مدت پوری کرتی ہیں، پھر اسٹیبلشمنٹ کے لیے نیا آلہ کار اقتدار کے لیے تیار ہو جاتا ہے، اور یوں ہم دوبارہ زیرو پر آ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے بار بار غلطیاں ہو چکی ہیں، اب توبہ کرنا ہوگی۔
قومی قیادت سے اپیل
انہوں نے کہا کہ قومی لیڈرشپ اور اسٹیک ہولڈرز کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ جب تک نظریۂ پاکستان اور قرآن و سنت کی بالادستی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا، سب اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مینڈیٹ کی چوری اور ہوسِ اقتدار کا خاتمہ کرنا ہوگا اور سیاسی بحران کا حل نکالنا ہوگا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان
لیاقت بلوچ نے بتایا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم پر بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات رکھنے والے اور راستہ روکنے والے دونوں فریق ضد پر نہ کھڑے رہیں، وگرنہ ریاست کو نقصان ہوگا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ سسٹم کی بہتری کے لیے جب تک بیماری کی جڑ کو نہیں پکڑا جائے گا، معاملات اصلاح کی طرف نہیں آئیں گے اور چیزیں کنٹرول میں نہیں ہوں گی۔









