سیاسی جماعتیں خود کو ری آرگنائز کریں چھوٹے صوبوں کا حامی تو ہوں لیکن ایسی پارلیمنٹ بنائیں جس پر سوال نہ اٹھے، خواجہ سعد رفیق

اسلام آباد(پنجاب پوسٹ)مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے اپنے خطاب میں ملکی سیاست، آئین، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے کردار پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو روندنے والے ہی اس ملک کی موجودہ حالت کے ذمہ دار ہیں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آئین میں بار بار ترامیم کی گئیں، حالانکہ آئین کے بغیر ملک نہیں چل سکتا۔ ان کے مطابق سب سے پہلے مارشل لاء لگانے والے ذمہ دار ہیں، پھر ان کے سہولت کار سیاسی کھلاڑی۔ انہوں نے عدلیہ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جو نظریۂ ضرورت کے مطابق فیصلے کرتی رہی۔ عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور سہولت کار سیاستدانوں کو انہوں نے ملک کی اس حالت کا ذمہ دار قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں غداروں کی فیکٹری لگائی گئی۔ جی ایم سید کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ وہ کیسے غدار تھے، انہیں بات تک نہیں کرنے دی گئی اور رگڑ کر رکھ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی کسی کو "را کا ایجنٹ” کہا جاتا ہے اور دیوار میں چن دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ غدار اور بھارتی ایجنٹ بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ان کے بقول جسے جسے غدار کہا گیا، بعد میں اسے تخت پر بٹھا دیا گیا۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پورے پورے خاندان جیل جاتے ہیں اور اس کی قیمت چکائی جاتی ہے۔ انہوں نے ملک کی اشرافیہ کو منافق قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب سختیاں ختم ہوتی ہیں تو سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی مخالفین کو بھی یاد دلایا کہ ان کی باری بھی آنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات خراب کیے گئے اور اندرونی جبر پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں لشکر کس نے تیار کیے، جبکہ اب پوری قوم خون کا خراج دے رہی ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں سائے سے لڑا جا رہا ہے اور کڑوی بات سننے کو کوئی تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست سوتیلے باپ جیسا رویہ رکھتی ہے، ماں نہیں بنی، اور چھوٹے صوبوں کا مسئلہ نیت سے حل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم روز قرضہ لے کر تالیاں بجاتے ہیں اور سمجھتے ہیں ریاست آگے جا رہی ہے، حالانکہ ہمیں اپنا احتساب کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق لوگوں کے پاس لڑنے کی طاقت نہیں اور روٹی، کپڑا، مکان نہیں مل رہا تو وہ سڑکوں پر کیسے آئیں گے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ سب سے پہلا فیصلہ سیاستدانوں کو کرنا ہے کہ ہار کو تسلیم کریں۔ انہوں نے مثال دی کہ وہ لطیف کھوسہ سے ہارے تو نتیجہ تسلیم کیا، جبکہ پچھلی بار جب وہ چالیس ہزار ووٹوں سے جیتے تو پی ٹی آئی نے نتیجہ نہیں مانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کا فیصلہ ماننا ہوگا، بار بار توہین کریں گے تو سانحات سے نہیں بچا جا سکتا۔

انہوں نے سوال کیا کہ "بانی” پہلے جو کچھ کرتے رہے، کیا وہ ٹھیک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خان اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ نہ دیتے تو آج وہ جیل میں نہیں بلکہ وزیراعظم ہوتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک ایکسٹینشن کے لیے دھرنے شروع کر دیے جاتے ہیں اور ان کی حکومت کو بھی گرایا گیا۔

سیاسی جماعتیں خود کو ری آرگنائز کریں اور ایسی پارلیمنٹ بنائیں جس پر سوال نہ اٹھے۔
ملک کی تین بڑی جماعتیں ایم کیو ایم اور مولانا فضل الرحمن کو شامل کر کے بات کریں۔
جماعتوں میں چاپلوس اور خوشامدی عناصر کی حوصلہ افزائی بند ہو۔
الزام تراشی کی سیاست سے گریز کیا جائے۔

• پی ایف سی کو این ایف سی ایوارڈ جیسا درجہ دیا جائے۔
• نئی جماعتوں کے بجائے موجودہ جماعتوں سے نظام چلایا جائے، اگر وہ کام نہ کریں تو نئی جماعتیں خود بن جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں مشاورت کا عمل ختم ہو چکا ہے اور ان کی عمر زیادہ نہیں، اس لیے سول سوسائٹی کو اٹھ کر انہیں جگانا اور دباؤ میں لانا چاہیے تاکہ پارٹیوں میں جمہوریت آئے۔ ریٹائرڈ سول سرونٹس اور جرنلز کو بھی اپنی سوسائٹی میں آواز بلند کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کے لوگ مڈل کلاس سے آتے ہیں اور جذبے سے جان دینا چاہتے ہیں مگر کرپٹ نظام سے مایوس ہوتے ہیں۔ انہوں نے ذاتی رائے دی کہ موجودہ الیکٹورل ڈھانچہ نہیں چلے گا اور مڈل کلاس کو اسمبلیوں کا راستہ نہ دیا گیا تو کچھ بہتر نہیں ہوگا۔

خواجہ سعد رفیق نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے امید کم اور بددلی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بونوں کے عہد میں جی رہے ہیں، بڑے لوگوں کے عہد میں نہیں۔ ان کے بقول سیاستدان خوف کی سیاست کرتے ہیں، لیکن ایک وقت آئے گا جب طاقتور فریق تھک کر مذاکرات کی میز پر آ جائے گا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے