اسلام آباد(پنجاب پوسٹ)سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے ملکی سیاسی نظام، جمہوریت، انتخابات اور گورننس کے حوالے سے اہم خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں مستحکم جمہوریت موجود نہیں، چاہے اس کا قصور سیاستدانوں کا ہو یا اسٹیبلشمنٹ کا۔ انہوں نے ملک کے ڈیلیوری سسٹم کو کمزور قرار دیا اور گورننس کو سیاسی جماعتوں سے جوڑنے پر زور دیا۔
نظام اور ڈیلیوری سسٹم
انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ملک کا سسٹم زمیں بوس ہو چکا ہے، تاہم ان کے مطابق ہمارے ملک کا ڈیلیوری سسٹم بہت کمزور ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سکیورٹی اور معاشی استحکام فراہم کرنے کے لیے ہی نظام لایا جاتا ہے۔
جمہوریت اور سیاسی جماعتیں
ان کا کہنا تھا کہ احتساب والی حکومت کو دنیا تسلیم کرتی ہے اور اسے جمہوریت ہی چلا سکتی ہے۔ انہوں نے جمہوریت کو ایک طرزِ حکمرانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں اسے فیملی سسٹم نہ بنا دیں۔ ان کے بقول گورننس کو سیاسی جماعتوں سے جوڑنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں جمہوریت کی طرف منتقلی پر لوگ ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ حکمرانی کے لیے عوام کو اہم کردار دیا جائے۔
انتخابات پر گفتگو
انوارالحق کاکڑ نے اعتراف کیا کہ ہمارے ہاں صاف شفاف انتخابات کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انتخابات ٹھیک ہونے سے تمام مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب بھی ملک میں انتخابات ہوئے، وہ سیاسی جماعتوں کے بنائے ہوئے نظام کے تحت ہوئے۔
شیخ مجیب الرحمن اور بی ایل اے پر مؤقف
سابق نگران وزیراعظم نے شیخ مجیب الرحمن کو غدار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چند ایسے افراد بھی تھے جنہیں فتح مکہ کے موقع پر بھی معافی نہ ملی، جن میں کاتبینِ وحی میں سے وہ لوگ شامل تھے جو مرتد ہو گئے تھے۔ انہوں نے شیخ مجیب الرحمن اور موجودہ بی ایل اے کو غدار قرار دیا۔
غربت اور شدت پسندی
انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ لوگ غربت کی وجہ سے ہتھیار نہیں اٹھاتے۔









