اسلام آباد(پنجاب پوسٹ)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اس وقت ملک کو شدید خطرات لاحق ہیں، جن کا ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ خطرناک بات کیا ہو سکتی ہے کہ نوجوانوں کا ملک کے مستقبل پر سے یقین ختم ہو جائے، اور ہم آج اسی مقام پر کھڑے ہیں۔
اسد عمر نے کہا کہ ملک کے فیصلے عوام کو کرنے دیے جائیں، نظام کس نے چلانا ہے یہ فیصلہ بھی عوام پر چھوڑا جائے، اور اختیار و وسائل کو عوام تک لے جانا ہوگا۔ ان کے مطابق دنیا میں کامیاب ممالک کی بنیاد جمہوریت ہے اور پاکستان کے لیے بھی کامیابی جمہوریت میں ہے، ہائبرڈ نظام میں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سیاستدان ایک دوسرے کا گریبان پکڑتے رہیں گے، ملک آگے نہیں بڑھے گا۔ ان کے بقول تمام سیاسی جماعتیں فوج کی مداخلت کو فروغ دیتی رہیں اور اس سے فائدہ بھی اٹھاتی رہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ طاقت اور اختیار کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے ایسی آئینی ترمیم کی ضرورت ہے جو عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔
وسائل کی تقسیم کا موازنہ کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ چین میں وسائل کا 15 فیصد وفاق، 25 فیصد صوبے اور 60 فیصد مقامی حکومتیں استعمال کرتی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں ریاستی نظام کے وسائل کا 65 فیصد وفاق، 30 فیصد صوبے اور 5 فیصد سے بھی کم مقامی حکومتیں استعمال کرتی ہیں، جس کے باعث صاف پانی سمیت کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاق صوبوں کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کے لیے بھی این ایف سی ایوارڈ میں سے 30 فیصد حصہ مختص کرے۔انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کا نظام اب تک صرف کاغذوں میں ہے، اگر یہ نظام عملی طور پر نافذ ہو جائے تو ملک بھر میں اسّی ہزار سے ایک لاکھ منتخب نمائندے ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت منتخب سات سو ایم پی ایز اور دو سو ایم این ایز کے پاس عملاً صفر اختیار ہے اور کوئی قانونی اختیار نہیں، جبکہ اصل اختیارات ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کے پاس ہیں۔اسد عمر نے مزید کہا کہ جب تک فارم 47 کے ذریعے حکومتیں بنائی جاتی رہیں گی، پاکستان ترقی نہیں کر سکتا، چاہے کچھ بھی کر لیا جائے۔









