قومی مفادات کی تجاویز کو صوبے ویٹو کررہے ہیں چولستان فلڈ کینال کا معاملہ ہی دیکھیں لیں، احمد بلال محبوب

لاہور(پنجاب پوسٹ)پلڈاٹ (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی) کے صدر احمد بلال محبوب نے کہا ہے کہ ملک میں گڈ گورننس کے مسئلے پر تمام سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی، کیونکہ اچھی حکمرانی کے بغیر ریاستی اور معاشی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اکثر سیاسی جماعتیں اپنے کارکنان کو گورننس کے حوالے سے تربیت دے کر تیار نہیں کرتیں، جس کے باعث اقتدار میں آنے کے بعد انتظامی اور پالیسی امور میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کارکنوں کو حکمرانی کے تقاضوں سے آگاہ کرنے کے لیے باقاعدہ تربیتی نظام قائم کریں۔

ملکی معیشت پر گفتگو کرتے ہوئے احمد بلال محبوب نے کہا کہ ہر سال جب بجٹ بنایا جاتا ہے تو تقریباً بیس ارب ڈالر کا قرض لے کر گزارہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کا مجموعی قرضہ اب ایک سو چالیس ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔وفاق اور صوبوں کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی مفاد پر مبنی تجاویز کو صوبے ویٹو کر دیتے ہیں۔

اس کی واضح مثال چولستان فلڈ کینال کا معاملہ ہے، جس پر اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط اور مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے، تاکہ عوام کے مسائل نچلی سطح پر حل ہو سکیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے