لاہور(پنجاب پوسٹ)سابق وفاقی وزیر اور سینئر سیاسی رہنما محمد علی درانی نے اپنے خطاب میں ملکی نظامِ حکومت، بلدیاتی اداروں، نئے صوبوں اور ہائبرڈ نظام پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گورننس کبھی آئی ہی نہیں اور آگے بڑھنے کے لیے سٹیٹس کو کوئی آپشن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ کیے بغیر سب کچھ ہو جانے کی توقع رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق نوجوان ہاتھ سے نکل رہا ہے، اور اگر اس کے ذہن کو نہ پہچانا گیا تو وہ سٹیٹس کو کو تسلیم نہیں کرے گا۔
محمد علی درانی نے کہا کہ اقتدار اور وسائل میں عوام شریک نہیں ہیں اور یہ اقتدار عوام سے اتنا دور ہے کہ وزیراعلیٰ کو سفر کے لیے جہاز کی ضرورت پڑتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اقتدار کے فاصلے کم کرنا وقت کی ضرورت ہے، اور عوام کو اقتدار میں شریک کیا جائے، مگر یہ شراکت "ٹوپی ڈرامہ” نہیں ہونی چاہیے۔
بلدیاتی نظام کے حوالے سے انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ بلدیاتی نظام بھی ایک مدت کے لیے ہی قائم ہونا چاہیے، اور اسے ایسا آئینی تحفظ حاصل ہو کہ کوئی وزیراعلیٰ بھی اسے توڑ نہ سکے۔
اسلام آباد کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہاں کنٹینر ڈرامہ ہو رہا ہے اور کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔
نئے صوبوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بہاولپور اور جنوبی پنجاب میں آئین کے مطابق نئے صوبے بنائے جائیں اور نیا بلدیاتی نظام پوری قوت سے لایا جائے۔ ان کے بقول جب تک نئے صوبے نہیں بنیں گے، مسائل حل نہیں ہوں گے، تاہم نئے صوبے ڈرائنگ بورڈ سے نہیں بنائے جانے چاہییں۔
ہائبرڈ نظام پر گفتگو کرتے ہوئے محمد علی درانی نے کہا کہ ملک کا اصل مسئلہ ہائبرڈ نظام ہے جو آج کا نہیں بلکہ 1971ء سے چلا آ رہا ہے۔ ان کے مطابق اس نظام نے ثابت کیا کہ اس میں فوج اور سیاستدان دونوں شریک رہے ہیں، اور یہ دیکھنا ہوگا کہ بڑا ملزم کون ہے۔
انہوں نے سیاستدانوں کے اس مؤقف کا ذکر کیا کہ انہیں گردن میں رسی ڈال کر فارم 47 کے ذریعے اقتدار پر بٹھایا گیا، اور سوال اٹھایا کہ پھر مجرم کون ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار پر زبردستی بٹھانے والا نہیں بلکہ بیٹھنے والا مجرم ہے، اور ہائبرڈ نظام کے تحت اقتدار میں آنے والا آرٹیکل 6 کا مجرم ہوگا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ جب تک عوامی مسائل حل کرنے کا اختیار عوام کو منتقل نہیں کیا جائے گا، ملک نہیں چل سکے گا۔









