لاہور(پنجاب پوسٹ)پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما ندیم افضل چن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کا نظام گر چکا ہے اور اس پر بات کرنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔ ان کے مطابق ریاست اب سرمایہ داروں کے قبضے میں جا چکی ہے۔
نئے صوبوں پر اعتراضات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں پر اعتراضات کے حوالے سے، ان پر لوگ حیران ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سیاستدانوں کو فارغ کر دیا جائے یا پھر یہ دیکھا جائے کہ اشرافیہ کے "رولنگ کلب” میں مذہبی علما، سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ کے لوگ شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک رولنگ کلب کے ذریعے ہی چلانا ہے تو پھر تبدیلی نہیں آئے گی۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ رولنگ کلب کو قربانی دینا ہوگی۔ ان کے بقول پنجاب کا رولنگ کلب پہلی بار متاثر ہوا ہے تو اب لوکل باڈیز نظر آ رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدنیتی کے ساتھ مسجد بھی بنائی جائے تو اسے گرا دینا چاہیے، جبکہ ہر چیز اور سوچ پر رولنگ کلب کا قبضہ ہے۔
انصاف اور انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صاف شفاف الیکشن اور عدل ہوگا تو ہی سسٹم ٹھیک ہوگا، لیکن اس وقت ہم عدل سے بہت دور ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ نئے صوبوں کا ٹیسٹ کرنے کے لیے "بے روزگار کا صوبہ” بنا دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سیاستدان فیصلہ ساز نہیں ہوتے، اگر فیصلہ کرنا ہے تو ایمانداری سے کیا جائے، کیونکہ "آدھا تیتر آدھا بٹیر” والا نظام اب نہیں چل سکتا۔ ان کے مطابق سسٹم کو نچوڑ کر ہمیں بھاشن دیا جاتا ہے۔
ندیم افضل چن نے زور دیا کہ اس سسٹم کو بدنیتی اور منافقت سے پاک کر کے ازسرنو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم آج بھی حقیقت سے دور ہیں اور سوال کیا کہ طاقتور حلقوں سے بات کون کرے گا، کیونکہ سیاستدان یا تو جیل جائے گا یا بے روزگار ہو جائے گا۔









