لاہور (پنجاب پوسٹ) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ ریاست کے طور پر پاکستان کی شناخت کا تعین ہماری اپنی ترجیح اور فیصلہ ہے۔ اگر ہم خود کو جنگجو ریاست کے طور پر پیش کریں گے تو ہماری شناخت بھی جنگجو سے جڑی ہوگی، جبکہ خود کو صلح جو ریاست کے طور پر پیش کرنے کی صورت میں ہماری شناخت بھی اسی بنیاد پر ہوگی۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ قیام پاکستان سے آج تک ریاست کے کردار اور عالمی تنازعات میں پاکستان کی شمولیت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان عالمی تنازعات کا حصہ کیوں بنا، یہ تنازعات ہماری بقا کے لیے ضروری تھے یا ہماری خارجہ اور داخلی پالیسیوں کا نتیجہ تھے۔
انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی کہیں سے حاصل نہیں کرنی بلکہ اپنی صلاحیت سے مضبوط بنانا ہے۔ اس بات پر بھی غور کرنا ہوگا کہ قومی شناخت ہمیں طاقت دے گی یا کمزور کرے گی اور قوم پرستی ہمیں کسی نئی علیحدگی پسند تحریک یا تنازع کی طرف تو نہیں لے جائے گی۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 30 سے 35 سال دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود دہشت گردی کے خوف میں پرورش پائی اور خوفناک اموات اور تباہی دیکھی۔ دہشت گردی کے باعث مساجد، امام بارگاہیں، عدالتیں، اسپتال اور اسکول تباہ ہوتے دیکھے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ عالمی تنازعات کو بھی انصاف اور عدل کے اصولوں کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ، جنوبی ایشیا کے تنازعات، فلسطین کے معاملے اور دیگر عالمی تنازعات کے اسباب و نتائج کو سمجھنا ضروری ہے۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ملک میں معاشی بحران موجود ہے اور معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ معیشت کے مختلف شعبوں کی کارکردگی اور ٹیکس نظام کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ایسے شعبے جو ٹیکس ادا نہیں کر رہے وہ قومی معیشت پر بوجھ بن چکے ہیں۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ حکومت چلانا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر ملک 70 سے 80 سال میں درست طریقے سے نہیں چلایا گیا تو اس سوال کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔ ملک کے معاشی اور سیاسی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے خود احتسابی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیچیدہ سیاسی اور معاشی مسائل کا حل اداروں کی آئینی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں ہے۔ آئین میں پارلیمان کے لیے جو اختیارات متعین کیے گئے ہیں انہیں تسلیم کرنا ہوگا اور پارلیمان کو بااختیار بنانے کے لیے آئینی اختیارات پر بلا تعطل عمل درآمد کرنا ہوگا۔
سپیکر پنجاب اسمبلی کے مطابق سیاسی جماعتیں ملک کی وحدت اور قومی تشخص کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی چاروں صوبوں میں موجودگی اور عوامی مقبولیت قومی یکجہتی کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین میں طے شدہ اصولوں پر عمل درآمد کے لیے قومی سطح پر اتفاق رائے ضروری ہے۔ قومی شناخت، جغرافیہ، قوم پرستی اور آئینی تشکیل کے معاملات پر سنجیدہ مکالمہ وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ معاشرے میں مکالمہ نہ ہو تو قومی مسائل کا حل تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔











