لاہور (پنجاب پوسٹ)لاہور میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرانے والے بیلف پر مبینہ تشدد اور نازیبا سلوک کے معاملے میں ایک غیر معمولی صورتِ حال سامنے آئی ہے۔ تھانہ سول لائن کے ایس ایچ او انسپکٹر ندیم کمبوہ اور سب انسپکٹر غلام ربانی کے خلاف عدالت کے حکم پر ان کے اپنے ہی تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ایوانِ عدل کے بیلف ریاض رشید 27 مارچ کو رینٹ کورٹ کے حکم پر لارنس روڈ پر واقع ایک مکان خالی کروانے گئے تھے۔ مکان خالی کروانے کے بعد وہ رپورٹ مرتب کر کے واپس جانے لگے تو سب انسپکٹر غلام ربانی سرکاری گاڑی میں نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گیا۔
مدعی کے مطابق سب انسپکٹر غلام ربانی نے بیلف ریاض رشید، ڈگری دار کے بھائی قاسم علی اور محمد وقاص کو پولیس گاڑی میں بٹھایا اور تھانے لے گیا۔ ایف آئی آر میں الزام ہے کہ تھانے پہنچتے ہی ایس ایچ او ندیم کمبوہ نے سخت الفاظ میں گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ تم نے میری اجازت کے بغیر میرے علاقے میں گھر خالی کیوں کروایا۔
بیلف کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایس ایچ او کو عدالتی احکامات دکھائے، مگر ایس ایچ او نے طیش میں آ کر انہیں تھپڑ مارے اور غلیظ گالیاں دیں۔ ایف آئی آر کے مطابق تینوں افراد کو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک تھانے میں غیر قانونی طور پر حبسِ بے جا میں رکھا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔
واقعے کے چھ ماہ بعد عدالت کے حکم پر ایس ایچ او تھانہ سول لائن انسپکٹر ندیم کمبوہ اور سب انسپکٹر غلام ربانی کے خلاف اختیارات سے تجاوز کی دفعہ 155-C کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ مقدمہ ان کے اپنے ہی تھانے میں درج ہوا۔
ذرائع کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد ایس ایچ او ندیم کمبوہ خود ہی اپنی روانگی کی رپٹ لکھ کر تھانے سے چلا گیا۔ کسی بھی افسر نے اسے گرفتار نہیں کیا۔یاد رہے کہ ایف آئی آر میں درج الزامات مدعی کے بیان پر مبنی ہیں اور ان کی حتمی تصدیق تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہو سکے گی۔









