افسر کا تبادلہ ہوا تو تفتیش کا منظر ہی بدل گیا، ایک ماں کا بچہ لاپتہ ہے انشاءاللہ اسے بازیاب ہونا ہے، جسٹس فاروق حیدر، عدالت کا آئندہ سماعت پر بچے کی بازیابی کا حکم

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں خاتون کے دو سال سے لاپتہ بیٹے علی حسن کی بازیابی کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس فاروق حیدر نے خاتون آمنہ بی بی کی درخواست پر سماعت کی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مدثر نوید چٹھہ نے رپورٹ پیش کی جبکہ ڈی پی او منڈی بہاؤالدین بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر حکومتی وکیل کو بچے کی بازیابی کا حکم دیتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو عدالتی حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ پہلے کیس کی تفتیش درست یورپی تھی، افسر کا تبادلہ ہوا تو تفتیش کا منظر ہی بدل گیا۔ آپ آئندہ سماعت پر کیس کے تفتیشی کی تبدیلی کے اثرات کے قانونی پہلوؤں کے بارے میں آگاہ کریں۔

عدالت نے کہا کہ گوجرانوالہ اور گجرات پولیس مغوی بچے کو بازیاب نہیں کراسکی، کیا کیس کی تفتیش دونوں ڈویژنز سے باہر لے جانے سے پولیس کی غیر جانبداری ہوسکے گی؟ دو سال سے بچہ بازیاب نہیں کرایا جاسکا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں ہوا تو توہین عدالت کی کارروائی کس کے خلاف کرنا ہے، آئندہ سماعت پر آگاہ کریں۔ عدالت نے رپورٹ میں کافی خامیوں کی بھی نشاندہی کی۔

جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ ’’ایک ماں کا بچہ لاپتہ ہے، ان شاءاللہ اسے بازیاب ہونا ہے‘‘۔

درخواست گزار کے وکیل مراتب علی گوندل ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ 20 سالہ علی حسن کو پولیس نے کریانہ کی دکان سے اٹھایا، جس کے بعد بیٹے کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت درخواست گزار کے بیٹے علی حسن کو بازیاب کروانے کا حکم دے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے