لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور کے علاقے مناواں میں اسموگ کے خلاف حکومتی دعووں کی اس وقت قلعی کھل گئی جب گورنمنٹ ڈگری کالج رکھ چھبیل کے احاطے میں کوڑا کرکٹ نذرِ آتش کر دیا گیا۔ کالج سے اٹھنے والے دھوئیں کے بادلوں نے علاقے کی فضائی آلودگی میں مزید اضافہ کر دیا، جبکہ دوسری جانب انتظامیہ اسموگ کے خلاف زیرو ٹالرنس کے دعوے کرتی نظر آتی ہے۔

ذرائع کے مطابق گورنمنٹ ڈگری کالج رکھ چھبیل میں کوڑا جلانے کا یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب شہر بھر میں اسموگ کے خلاف آپریشن جاری ہے اور متعلقہ اداروں کو کوڑا جلانے، دھواں چھوڑنے والی سرگرمیوں اور آلودگی پھیلانے والے عوامل کی روک تھام کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ایسے میں ایک سرکاری تعلیمی ادارے کے اندر کوڑا جلائے جانے کے انکشاف نے حکومتی اقدامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آلودہ ترین شہروں میں لاہور سرفہرست، آج درجہ حرارت 33 ڈگری رہنے کا امکان
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کالج کے احاطے سے دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے، جس سے نہ صرف طلبہ و طالبات بلکہ ارد گرد کے رہائشیوں کو بھی سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ ماحولیاتی قوانین کے تحت کھلے عام کوڑا جلانا قانوناً ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر جرمانے اور کارروائی کا امکان ہوتا ہے۔

مقامی افراد اور سماجی حلقوں نے متعلقہ انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ آخر سرکاری کالج میں کوڑا جلانے کا ذمہ دار کون ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سرکاری ادارے ہی قوانین کی پاسداری میں ناکام ہوں گے تو عوام سے تعاون کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سدباب ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں:بہاولنگر ،پنجاب میں سموگ پر قابو پانے کیلئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں؟












