وزیراعظم شہباز شریف اس وقت نیویارک میں ہیں لیکن پاکستان میں بیٹھے حکومتی فیصلوں اور رابطہ کاری کا ایک ایسا سلسلہ ضرور دکھائی دے رہا ہے جس نے اسلام آباد کی طرف بڑھنے والے تین مختلف احتجاجوں کو ایک کے بعد ایک روک دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ، ذرائع
سب سے پہلے جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب اپنا لانگ مارچ مؤخر کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک سے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور وطن واپسی پر ملاقات کی یقین دہانی کرائی۔ اس رابطے کے بعد جماعت اسلامی نے مارچ مؤخر کردیا، اگرچہ جماعت نے واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی کے خلاف اس کی احتجاجی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔
اس کے بعد کسان اتحاد کا اسلام آباد احتجاج بھی آگے نہ بڑھ سکا۔ کسان اتحاد نے 25 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا تھا لیکن 25 ستمبر کو سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق بلوچستان حکومت کی درخواست پر کوئٹہ سے اسلام آباد لانگ مارچ اور دھرنا مؤخر کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : وزیرِ اعظم کا ٹیلی فون ، جماعت اسلامی نے ہتھیار ڈال دیئے؟ لانگ مارچ ملتان ہی میں رک گیا
اور اب تیسرا بڑا اعلان خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی طرف سے آیا ہے۔ پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ اب 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یعنی وہ احتجاج جسے چند روز پہلے تک 27 ستمبر کا بڑا سیاسی معرکہ قرار دیا جا رہا تھا وہ بھی آگے چلا گیا۔
سیاسی مبصرین اب تبصرے کر رہے ہیں کہ اسلام آباد کو ایک ہی وقت میں تین مختلف احتجاجی محاذوں کا سامنا کیوں نہیں کرنا پڑا؟ اس کا ایک جواب حکومتی حکمت عملی میں نظر آتا ہے یعنی براہِ راست تصادم کی بجائے الگ الگ مذاکرات، رابطے اور انتظامی دباؤ ڈالا گیا۔
15 ستمبر کو حکومت نے ان جماعتوں اور کسان اتحاد کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق جماعت اسلامی، پی ٹی آئی اور کسان اتحاد، تینوں کے ساتھ الگ الگ رابطے کیے گئے۔ حکومت نے احتجاجی جماعتوں کے لیے مخصوص مقام دینے اور مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش بھی کی۔
یہ حکمت عملی اس لیے بھی اہم تھی کہ اگر جماعت اسلامی، کسان اتحاد اور پی ٹی آئی تینوں اپنے اپنے اعلانات کے مطابق اسلام آباد پہنچتے تو دارالحکومت کو ایک ہی ہفتے میں متعدد احتجاجی محاذوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ اسلام آباد پولیس بھی پہلے ہی پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور کسان اتحاد کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات کر رہی تھی۔
لیکن حکومت نے ہر احتجاج کو ایک ہی طریقے سے نہیں نمٹایا۔
جماعت اسلامی کے ساتھ سیاسی رابطہ ہوا، کسان اتحاد کے ساتھ حکومتی مذاکرات ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے معاملے میں انتظامی رکاوٹوں، سکیورٹی اقدامات اور اندرونی سیاسی مشاورت نے فیصلہ بدلنے میں کردار ادا کیا۔
پی ٹی آئی کے معاملے میں صورت حال مزید دلچسپ ہے۔ صرف چند روز پہلے پارٹی کے رہنما یہ مؤقف دے رہے تھے کہ 27 ستمبر کا مارچ مؤخر کرنے کا اختیار صرف عمران خان کے پاس ہے۔ بعد میں پارٹی کے اندر قیادت کی مشاورت ہوئی اور سہیل آفریدی نے مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا اعلان کردیا۔
یوں دیکھا جائے تو یہ کامیابی حکومت کی رابطہ کاری، مذاکرات، انتظامی تیاری اور سکیورٹی اقدامات مجموعہ ہے۔ حکومت نے شاید یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اسلام آباد کو بیک وقت تین بڑے احتجاجی محاذوں کے لیے کھولنے کے بجائے ہر محاذ کو الگ کرکے نمٹا جائے۔










