ملتان(پنجاب پوسٹ)میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے میدان میں نکلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جبکہ حکومت پٹرول پر بھتہ ٹیکس وصول کر رہی ہے، اور سیاسی جماعتیں عوام کے حقیقی مسائل سے بہت دور ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ حکومتی وزرا کے ساتھ اب تک مذاکرات کے پانچ ادوار ہو چکے ہیں، جن کے دوران حکومت نے ریلیف پیکیج دیا، تاہم یہ ناکافی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ریلیف دراصل ایک ڈرامہ ہے جس سے صرف پٹرول استعمال کرنے والے مستفید ہوں گے، جبکہ پرانی گاڑیاں رکھنے والوں کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ ان کے بقول یہ ریلیف نہیں بلکہ ایک ناٹک ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے انکشاف کیا کہ کل وزیراعظم نے فون پر رابطہ کیا اور لانگ مارچ ملتوی یا مؤخر کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ عوام پریشان ہیں اور انہیں سڑکوں پر نکلنے کا کوئی شوق نہیں۔ وزیراعظم نے جواب میں کہا کہ وہ اس وقت بیرون ملک ہیں اور واپسی پر ریلیف دیں گے۔ تاہم آج طویل مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ احتجاج اور لانگ مارچ دونوں سے دستبرداری اختیار نہیں کی جائے گی، البتہ وزیراعظم سے ملاقات کا موقع دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شہباز شریف کا فون، حافظ نعیم کا جواب: "لیوی بھتہ ختم کیے بغیر بات نہیں بنے گی”
انہوں نے کہا کہ ہم سنجیدہ لوگ ہیں اور عوام کے حقیقی مسائل کو ایڈریس کرتے ہیں، اس لیے احتجاجی تحریک سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ اگر حالات خراب ہوئے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دھرنے اور احتجاجی کیمپ جاری رہیں گے، اور جماعت اسلامی نے "اے بی سی پلان” ترتیب دیا ہے جس کے تحت صرف ایک جگہ سے اسلام آباد میں داخل نہیں ہوا جائے گا۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہمارا ایجنڈہ فساد یا جھگڑا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے جلد وطن واپسی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان سے بات چیت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم نے ریلیف دیا تو ٹھیک، بصورتِ دیگر لانگ مارچ جاری رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملتان اس وقت ان کا پڑاؤ ہے، اور اگر ریلیف نہ ملا تو لانگ مارچ مزید آگے بڑھے گا۔












