لاہور (پنجاب پوسٹ ) الخدمت فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام ملک بھر کے دور دراز اور آفت زدہ علاقوں میں 16 موبائل ہیلتھ یونٹس کے ذریعے ضرورت مند افراد کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ 2022ء میں آغاز کے بعد اب تک ان موبائل ہیلتھ یونٹس سے 12 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں، جبکہ 4 لاکھ 5 ہزار سے زائد طبی و لیبارٹری ٹیسٹس بھی کیے جا چکے ہیں۔
الخدمت فاؤنڈیشن کے موبائل ہیلتھ یونٹس خیبر پختونخوا میں 3، سندھ میں 5، بلوچستان میں 3، پنجاب میں 3 جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ایک، ایک یونٹ فعال ہے۔ ان یونٹس کے ذریعے ایسے علاقوں میں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جہاں مستقل ہسپتال یا طبی مراکز موجود نہیں۔ موبائل ہیلتھ یونٹس میں میڈیکل اسکریننگ، بنیادی لیبارٹری ٹیسٹس اور مفت ادویات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو صحت سے متعلق آگاہی بھی فراہم کی جاتی ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹر زاہد لطیف نے بتایا کہ الخدمت موبائل ہیلتھ یونٹس کا آغاز 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے دوران کیا گیا، جب سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں راستے منقطع ہونے کے باعث طبی امداد کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بن گئی تھی۔ ان یونٹس نے بعد ازاں مختلف قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں بھی طبی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔
انہوں نے بتایا کہ موبائل ہیلتھ یونٹس نے 2022ء اور 2025ء کے سیلابوں، بائپر جوائے سمندری طوفان کے دوران ساحلی علاقوں، پاک افغان سرحد پر افغان مہاجرین اور پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھمبر آزاد کشمیر کے متاثرہ علاقوں میں طبی خدمات فراہم کیں۔ مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع بونیر، باجوڑ اور سوات میں مختلف قدرتی آفات کے دوران بھی ان یونٹس نے متاثرین کو طبی سہولیات فراہم کیں۔ الخدمت موبائل ہیلتھ یونٹس نے عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ساتھ مشاورتی اور باہمی تعاون کے تحت بھی طبی خدمات کی فراہمی میں حصہ لیا۔
ڈاکٹر زاہد لطیف نے بتایا کہ موبائل ہیلتھ یونٹس الخدمت ہیلتھ سروسز کے وسیع نیٹ ورک کا حصہ ہیں، جس کے تحت ملک بھر میں 60 ہسپتال، 55 میڈیکل سینٹرز، 68 فارمیسیز، 39 ڈائگنوسٹک سینٹرز، 136 لیبارٹریز و بلڈ کلیکشن سینٹرز، 300 ایمبولینسز اور 16 موبائل ہیلتھ یونٹس فعال ہیں۔ الخدمت ہیلتھ سروسز کے تحت گزشتہ برس ایک کروڑ 14 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد مستفید ہوئے۔انہوں نے کہا کہ دور دراز اور آفت زدہ علاقوں میں بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ ضرورت مند افراد کو بروقت علاج کی سہولت میسر آ سکے۔













