لاہور (پنجاب پوسٹ) سب انسپکٹرکا دوست رنگ سازی کا کام کرنے والے شہری سے دکان خالی کروانا چاہتا تھا۔زنیر علی نے دکان خالی کرنےسے انکارکیا تو اسے پولیس کےساتھ مل کر اغواء کر لیا گیا
سب انسپکٹرامجدرضانے متاثرہ نوجوان پر بہیمانہ تشددکیا، پھرمنشیات کامقدمہ درج کروا دیا۔متاثرہ نوجوان انصاف کیلئے عدالت چلاگیا، معاملے کی انکوائری ہوئی تو بھانڈہ پھوٹ گیا۔انوسٹی گیشن پنجاب میں شامل افسران نے مقدمے کےا ندراج کو جھوٹا قرار دے دیا۔
رپورٹ کے مطابق سب انسپکٹرامجدرضا نےاپنے دوست ذیشان قیوم کےکہنے پرجھوٹا مقدمہ درج کروایا لیکن سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگرشواہد سے مقدمے کا متن ثابت نہ ہوسکا
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملزم کو نواں کوٹ سے پکڑا گیا، جبکہ ایف آئی آر میں واقعے کی جگہ ملت پارک ظاہر کی گئی۔
انکوائری کے بعد 14 ماہ گزرنے پر سب انسپکٹر امجد رضا کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرنے پر کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔













