خیبرپختونخوا میں ممبران اسمبلی ہمارے مگر ہماری بات نہیں چلتی ،ہم حکومت سے بات کرنے کو تیار ،کوئی سننے والا نہیں،بیرسٹر گوہر نے ہاتھ کھڑے کردئیے

لاہور(پنجاب پوسٹ)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آج بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے اظہار یکجہتی کے لیے لاہور آئے ہیں، اور ان کی گرفتاری کو بدترین سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی کے چار افراد اور آٹھ ایم این ایز گرفتار ہیں جبکہ جماعت کے وزرا لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بغیر باقاعدہ گورنر راج لگائے عملاً گورنر راج نافذ ہے، حکومت نے کے پی کو مکمل کنٹرول کیا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کے پی میں ایم پی ایز اور ایم این ایز ہمارے ہیں لیکن اختیار حکومت کا چلتا ہے، جو جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔

بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پارٹی چاہتی ہے کہ ان کا لانگ مارچ بھی ہو اور پرامن بھی ہو، تاہم ایک "حکومتی ٹولہ” پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ مارچ کے دوران ریاستی اداروں پر حملہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس جھوٹے بیانیے کا کوئی بندوبست کرنا ہوگا، اور یہ کہ پارٹی کو معلوم ہے کہ اسے کس سے بات کرنی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت ہونی چاہیے لیکن بدقسمتی سے تاحال کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے ہی نکالنا ہوگا، مگر کچھ عناصر نہیں چاہتے کہ سیاسی مسائل حل ہوں اور ملک کے مسائل ختم ہوں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے بتایا کہ محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس اور ان کی اپنی جماعت کی قیادت بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم حکومت کی جانب سے کی گئی بات چیت کی پیشکش محض ایک اعلان ہے، عملی طور پر اس میں کچھ نہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کے پاس مسائل حل کرنے کی فی الحال کوئی سنجیدہ سوچ موجود نہیں، اور یہ کہ گورنر راج کے اعلان سے پہلے ہی کے پی میں عملاً گورنر راج نافذ کیا جا چکا ہے۔

گفتگو کے اختتام پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاست میں کوئی لفظ حتمی نہیں ہوتا، اور جو لوگ دوسروں کی سیاست ختم کرنا چاہتے ہیں، ان کا انجام سب کے سامنے ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے