لاہور(پنجاب پوسٹ)تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مجوزہ احتجاجی مارچ کے پیش نظر جاری کریک ڈاؤن کے دوران پولیس نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تینوں بہنوں کو حراست میں لے لیا۔ سب سے پہلے علیمہ خان کو اپر مال سے جم خانہ کی طرف جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا اور انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا، جبکہ لٹن روڈ پولیس نے انہیں تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیتے ہوئے ان کی ذاتی گاڑی مزنگ تھانے میں کھڑی کر دی۔
اس کارروائی کے کچھ دیر بعد پولیس نے علیمہ خان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر ان کی دونوں بہنوں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی ان کے اہلخانہ سمیت رات گئے گرفتار کر لیا۔ اس دوران علیمہ خان کے دونوں بیٹے شیرشاہ اور شاہ ریز بھی عارضی طور پر زیر حراست رہے، تاہم بعد ازاں بچوں اور دیگر اہلخانہ کو رہا کر دیا گیا۔ اسی طرح نورین نیازی کی بیٹی ہاجرہ نیازی اور ان کے شوہر کو بھی علیمہ خان کے گھر کے قریب ناکے پر روک کر حراست میں لیا گیا، انہیں مختلف تھانوں میں گھمانے کے بعد کچھ دیر کی حراست میں رکھ کر رہا کر دیا گیا۔
عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو رات تقریباً دو بجے کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا، جہاں پہلے سے علیمہ خان بھی موجود تھیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے ان دونوں بہنوں کو بکتر بند گاڑی کے ذریعے نامعلوم مقام پر بھی منتقل کیا تھا، تاہم بعد میں انہیں باقاعدہ طور پر جیل بھیج دیا گیا۔
پولیس کی سفارش پر ڈپٹی کمشنر لاہور نے تینوں ایم پی او کے تحت دونوں بہنوں کی 30 روز کے لیے باقاعدہ نظربندی کے احکامات جاری کر دیے۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق یہ نظربندی نقضِ امن کے خطرے کے پیش نظر عمل میں لائی گئی، یعنی حکام کا مؤقف ہے کہ ممکنہ احتجاج یا سیاسی سرگرمی کے دوران امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ تھا، اس لیے احتیاطی تدبیر کے طور پر انہیں ایک ماہ کے لیے جیل میں رکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال دی جا چکی ہے، اور حکومت اس مارچ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے، جن میں اسلام آباد میں داخلی راستوں پر خندقیں اور مورچے بنانے کے فیصلے بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔ شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور ذرائع کے مطابق گرفتاریوں کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔












