لاہور(پنجاب پوسٹ) پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوامی ریلیف کے لیے جماعت اسلامی کے کراچی سے شروع ہونے والے ’سپر لانگ مارچ‘ کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اہم بریک تھرو کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کو بڑے عوامی ریلیف پیکج کی پیشکش کر دی ہے۔
ریلیف پیکج، ٹیکنیکل کمیٹی کی منظوری سے مشروط
مذاکرات کے پانچویں دور میں حکومتی وفد نے واضح کیا کہ ریلیف پیکیج پر عملدرآمد جماعت اسلامی کی ٹیکنیکل کمیٹی کی حتمی منظوری سے مشروط ہوگا۔ حکومتی وفد نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وزیراعظم شہباز شریف کو اس معاملے پر پہلے ہی اعتماد میں لیا جا چکا ہے، اور ان کی وطن واپسی کے فوراً بعد جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت سے باضابطہ رابطہ اور ملاقات متوقع ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے جماعت اسلامی کی قیادت سے وزیراعظم کی امریکہ سے واپسی تک مہلت بھی مانگ رکھی ہے۔
جماعت اسلامی کا مؤقف: لیوی ختم ہونے تک احتجاج جاری رہے گا
جماعت اسلامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ریلیف دینے میں واقعی سنجیدگی دکھائی تو لانگ مارچ میں عارضی وقفہ کیا جا سکتا ہے، تاہم پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے تک تحریک ختم نہیں ہوگی۔ اس سے قبل نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو ملک بھر سے دھرنے اسلام آباد کی طرف چل پڑیں گے۔
کراچی سے سپر لانگ مارچ کا آغاز، سکھر تک پیش رفت
سپر لانگ مارچ حافظ نعیم الرحمان اور منعم ظفر خان کی قیادت میں ٹرین (رحمان بابا ایکسپریس) کے ذریعے کراچی کینٹ اسٹیشن سے روانہ ہوا اور حیدرآباد سے ہوتا ہوا روہڑی سکھر پہنچا، جہاں مزید شہروں سے کارکنان قافلے میں شامل ہو رہے ہیں۔ حیدرآباد میں دھرنا گزشتہ 29 روز سے جاری ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا انتباہ
کراچی کینٹ اسٹیشن پر خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ وقت کی نبض اور ’نوشتہ دیوار‘ پڑھ لے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں اور اسے انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے، ورنہ یہ تحریک ’حکومت گراؤ، انقلاب لاؤ‘ تحریک میں تبدیل ہو سکتی ہے۔












