لاہور(پنجاب پوسٹ)جماعت اسلامی پاکستان کے سینئر رہنما اور سابق نائب امیر حافظ محمد ادریس طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ وہ گزشتہ چند ہفتوں سے شدید بیمار اور صاحبِ فراش تھے۔ مرحوم کی نماز جنازہ منصورہ میں نماز عشاء کے بعد ادا کی جائے گی۔
حافظ محمد ادریس کے انتقال پر امیرِ جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی دینی، سیاسی اور تحریکی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کے علاوہ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ اور ڈاکٹر فرید احمد پراچہ سمیت دیگر مرکزی و صوبائی رہنماؤں نے بھی ان کی رحلت پر غم کا اظہار کیا اور مرحوم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
وہ ایک طویل عرصے تک جماعت اسلامی کے نائب امیر کے اہم عہدے پر فائز رہے، اس کے علاوہ انہوں نے مرکزی قیم (سیکرٹری جنرل) اور امیرِ جماعت اسلامی پنجاب سمیت مختلف کلیدی انتظامی ذمہ داریاں نہایت احسن طریقے سے سرانجام دیں۔
وہ ایک ممتاز عالمِ دین، شعلہ بیان مقرر اور مصنف تھے، جنہوں نے قرآن، حدیث اور سیرتِ طیبہ کے موضوعات پر متعدد کتب تحریر کیں اور دینی و فکری خطبات کے ذریعے لاکھوں نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت کی۔ وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے مرکزی ارکان میں بھی شامل رہے۔
حافظ محمد ادریس کا شمار جماعت اسلامی پاکستان کی قدآور اور جید شخصیات میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی پوری زندگی اقامتِ دین، دعوتی و سیاسی جدوجہد اور نظریاتی بیداری کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
سیرتِ صحابہؓ پر انہیں خصوصی دسترس حاصل تھی اور اسی موضوع پر کئی نمایاں کتب تحریر کیں، جن میں بیس صحابہؓ کے حالات پر مبنی ابتدائی کتاب "روشنی کے مینار”، عشرۂ مبشرہ کی زندگیوں پر مبنی "سیرتِ عشرۂ مبشرہؓ”، باون صحابیاتؓ کے احوال پر مشتمل "روشن قندیلیں”، سیرت النبی ﷺ پر تفصیلی کتاب "رسولِ رحمت ﷺ، مکہ کی وادیوں میں” اور تحریکِ اسلامی سے وابستہ شخصیات پر مبنی متعدد جلدوں کا سلسلہ "عزیمت کے راہی” شامل ہیں۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے مطابق حافظ محمد ادریس کی وفات دینی اور تحریکی حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔












