لاہور (پنجاب پوسٹ) صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین کی زیر صدارت پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے بورڈ ممبران کا 138واں اجلاس پیسک ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں 5 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جبکہ ایم ڈی پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن مبین الٰہی نے ایجنڈا آئٹمز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
بورڈ نے صنعتی ترقی اینڈ ایکسپورٹ پروگرام پر محکمہ صنعت و تجارت و سرمایہ کاری کے ذریعے عمل درآمد کی منظوری دے دی۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کی 300 ارب روپے مالیت کی سکیم کے تحت چھوٹی اور بڑی صنعتوں کے لیے 5 ارب روپے تک کے آسان قرضے دیے جائیں گے۔
پروگرام کے تحت 10 کروڑ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا، جبکہ 10 کروڑ روپے سے ایک ارب روپے تک کے قرض پر 3 فیصد اور 5 ارب روپے تک کے قرض پر 5 فیصد مارک اپ ہوگا۔
پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے پنجاب پیسک کی قرض فراہمی کی حد بڑھائی جائے گی۔ ایکٹ میں ترامیم کے مسودے کی پنجاب کابینہ سے منظوری کے بعد اسے پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کہا کہ محکمہ صنعت و تجارت و سرمایہ کاری پنجاب صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور برآمدات بڑھانے کے لیے رواں سال ایک بڑا پروگرام شروع کر رہا ہے۔ پروگرام کے تحت چھوٹی اور بڑی صنعتوں کے فروغ کے لیے 5 ارب روپے تک کا آسان قرض دیا جائے گا۔
چوہدری شافع حسین کے مطابق آسان قرضوں کا یہ بڑا پروگرام بینک آف پنجاب کے اشتراک کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔
اجلاس میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹ قصور میں کینسل پلاٹوں کے الاٹیز کے لیے مراعاتی پیکیج میں توسیع کی منظوری بھی دی گئی، جبکہ سمال انڈسٹریل اسٹیٹ منڈی بہاوالدین میں پلاٹوں کی بکنگ کے لیے قواعد و ضوابط پر نظر ثانی کی بھی منظوری دی گئی۔
بورڈ نے پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کو قومی و بین الاقوامی نمائشوں، تجارتی میلوں، ثقافتی ایونٹس اور دیگر سرگرمیوں میں 20 فیصد تک خصوصی ڈسکاؤنٹ کے ساتھ شرکت کی منظوری بھی دے دی۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے انڈسٹریل اسٹیٹس کے حوالے سے لینڈ لیز پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ اب صنعتی مراکز میں صنعتی یونٹس لگانے کے لیے 30 سے 50 سال کی لیز پر بھی پلاٹ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
چوہدری شافع حسین نے کہا کہ منڈی بہاوالدین میں نئی انڈسٹریل اسٹیٹ بنائی جا رہی ہے، جس کا سنگ بنیاد اکتوبر کے پہلے ہفتے میں رکھا جائے گا۔ اس انڈسٹریل اسٹیٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے 20 فیصد کوٹہ مختص ہوگا جبکہ منڈی بہاوالدین کی سمال انڈسٹریل اسٹیٹ میں سوشل سکیورٹی کا ہسپتال بھی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی 23 سمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں صنعتی انفراسٹرکچر کی بہتری کا بڑا پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں سپیشل سیکرٹری انڈسٹریز، ایم ڈی پیسک، پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے ڈائریکٹرز اور بورڈ ممبران نے شرکت کی۔









