لاہور ( پنجاب پوسٹ ) بہن کو طلاق دلوانے کے لیے بہنوئی کو اغوا کرنے والے 3 خطرناک ملزمان کو پولیس نے قصور میں ایک بڑے آپریشن کے دوران گرفتار کر کے مغوی کو بحفاظت بازیاب کروا لیا ہے۔ ملزمان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پولیس ٹیم پر فائرنگ بھی کی تاہم پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے انہیں دبوچ لیا ۔
ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق، مرکزی ملزم علی اسد نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنے بہنوئی شفقت علی کے اغوا کا منصوبہ بنایا تھا۔ اغوا کا مقصد شفقت علی سے زبردستی طلاق کے کاغذات پر دستخط کروانا اور جہیز کا سامان واپس لینا تھا۔ 21 ستمبر کو مانانوالہ بیدیاں روڈ سے شفقت علی کے اغوا کی اطلاع پولیس ہیلپ لائن 15 پر موصول ہوئی تھی۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایت پر ایس پی کینٹ کی نگرانی میں دو خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ پولیس ٹیموں نے جدید ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی کیمروں، لوکیشن ٹریسنگ اور سی ڈی آر (کال ڈیٹا ریکارڈ) کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا۔ ترجمان نے بتایا کہ ملزمان پولیس سے اپنی شناخت چھپانے کے لیے گاڑی پر مختلف جعلی نمبر پلیٹس استعمال کرتے رہے۔
مغوی کی بازیابی کے لیے جب ہیئر پولیس نے قصور میں ملزمان کے خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا تو ملزمان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پولیس پارٹی پر سیدھی فائرنگ کر دی۔ تاہم، پولیس نے حکمتِ عملی کے تحت جوابی کارروائی کرتے ہوئے تینوں اغوا کاروں کو دائرہ کار میں لے کر گرفتار کر لیا اور مغوی شفقت علی کو بحفاظت بازیاب کرایا۔
گرفتار ملزمان کی شناخت علی اسد، مظفر علی اور فقیر علی جٹ کے نام سے ہوئی ہے۔ ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز نے انکشاف کیا کہ ریکارڈ چیکنگ کے دوران معلوم ہوا ہے کہ یہ ملزمان محض خاندانی تنازع نہیں بلکہ ڈکیتی سمیت دیگر سنگین وارداتوں میں بھی ملوث ہیں۔ پولیس کی جانب سے ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور ان کے دیگر جرائم کے حوالے سے بھی باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔









