لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے اچھرہ صرافہ بازار میں 20 کلو سونے کے مبینہ فراڈ کیس میں گرفتار ملزم شیخ وسیم اختر کی دو مقدمات میں درخواست ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ملزم کو ایک، ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرانے کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کی منظوری دی۔ جسٹس خالد ابن عزیز نے ملزم کی درخواستوں پر سماعت کی، جبکہ ملزم کی جانب سے چوہدری محمد سرور اور اسامہ زبیر ایڈووکیٹس نے دلائل پیش کیے۔
درخواست گزار کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ شیخ وسیم اختر فروری 2026 سے قید ہیں اور ان کے خلاف مجموعی طور پر 21 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ وکلا کے مطابق باقی مقدمات میں ماتحت عدالتوں سے ملزم کی ضمانتیں منظور ہو چکی ہیں، جبکہ موجودہ مقدمات میں بدنیتی کی دفعات غیر ضروری طور پر شامل کی گئی ہیں۔ درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا کہ زیورات ملزم کے حوالے کیے جانے کے حوالے سے کوئی رسید پیش نہیں کی گئی اور نہ ہی زیورات ملزم کے سپرد کرنے کا کوئی عینی گواہ موجود ہے۔
سرکاری وکیل نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزم اچھرہ میں سونے کا کاروبار کرتا تھا اور پولیس کی تحقیقات میں اسے گنہگار پایا گیا ہے۔ سرکاری وکیل کے مطابق مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے اور گواہان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں، اس لیے ملزم کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری مسترد کی جائے۔
ریکارڈ کے مطابق شیخ وسیم اختر کے خلاف تھانہ اچھرہ لاہور میں مجموعی طور پر 21 مقدمات درج ہیں۔ ملزم کی سیشن عدالت سے 15 مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے، جبکہ ہائیکورٹ سے پہلے ایک مقدمے اور اب مزید دو مقدمات میں بھی ضمانت بعد از گرفتاری منظور ہو گئی ہے۔ یوں ہائیکورٹ سے مجموعی طور پر تین مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے، جبکہ ملزم کی مزید تین مقدمات میں ضمانت بعد از گرفتاری ہونا باقی ہے۔









