ہوٹلز ، دکانوں اور ملک شاپس کو جرمانے کرنے والی فوڈ اتھارٹی کو لاہور ہائیکورٹ نے 1 لاکھ روپے جرمانہ کیوں کیا ؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب فوڈ اتھارٹی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی آسامیوں پر تعیناتی نہ ہونے کے خلاف درخواست دائر کی گئی۔ عدالت نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کو ایک لاکھ روپے جرمانہ کر دیا اور جرمانہ ادا نہ کرنے پر ڈی جی فوڈ اتھارٹی ذاتی حیثیت میں پیش ہوں گے۔

جسٹس خالد اسحاق نے حافظ سہیل رضا اور محمد شہباز کی درخواستوں پر سماعت کی گئی اور درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ مبشرالثاقب پیش ہوئے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سال 2019 سے آپ نے کیس پر دلائل نہیں دے رہے جس پر وکیل پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ چلیں آئندہ سماعت پر دلائل دے دیں گئے

عدالت نے ریمارکس دیے کہ چلیں کیا آپ ایک لاکھ روپے جرمانہ ڈسپینسری میں جمع کروائیں گے،وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی آسامیوں کے لیے درخواستیں دیں،درخواست گزاروں سے کم نمبر لینے والوں کی تقرریاں کر دی گئی ہیں،انٹرویو میں پانچ نمبر رکھے گئے تھے،نمبر نہ لینے والوں کی تعیناتی نہ کرنے کا غیر قانونی حکم جاری کیا،

درخواست گزاروں نے انٹرویو کے علاؤہ زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں، جس پر یہ استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پنجاب فوڈ اتھارٹی کو تعیناتی کرنے کا حکم دے،

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے