اب سیشن جج گریڈ ون سے گریڈ 16 تک بھرتیاں خود نہیں کرسکیں گے ،پنجاب کی ماتحت عدالتوں کا 150 سالہ نظام ختم کردیا گیا

لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتی کے حوالے سے ایک تاریخی اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے 150 سال سے رائج پرانے نظام کو ختم کر دیا ہے، جس کے تحت سیشن ججز کو حاصل براہ راست بھرتی کے اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں نئے رولز کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اب سیشن ججز اپنے اپنے اضلاع میں ماتحت عدالتوں کا عملہ براہ راست بھرتی نہیں کر سکیں گے۔ نائب قاصد سے لے کر گریڈ 16 تک کی تمام آسامیوں پر سیشن ججز کے براہ راست بھرتی کرنے کے اختیارات مکمل طور پر ختم کر دیے گئے ہیں۔

نئے نظام کے تحت ماتحت عدالتوں میں بھرتیوں کے لیے لاہور ہائیکورٹ کے سیکریٹریٹ میں ایک نیا مرکزی نظام قائم کیا جائے گا۔ طریقہ کار کے مطابق جس ضلع میں عملے کی کمی ہوگی، متعلقہ سیشن جج ڈی جی اسٹیبلشمنٹ کو خالی آسامیوں سے آگاہ کرے گا۔ اس کے بعد ڈی جی اسٹیبلشمنٹ چھان بین مکمل کرکے بھرتی کا کیس لاہور ہائیکورٹ سیکریٹریٹ کو بھجوائے گا۔

امیدواروں کی بھرتی میرٹ کی بنیاد پر ہوگی، جس کے لیے تحریری امتحان اور انٹرویو کا مرحلہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں میں بھرتیوں کے لیے شفاف اور واضح طریقہ کار وضع کر دیا ہے تاکہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس ضمن میں پنجاب حکومت جلد نئے عدالتی عملے کی بھرتی سے متعلق نئے رولز کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے