لاہور(پنجاب پوسٹ)پاکستان کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے ایک نوٹس جاری کیا گیا جس میں انہیں پاکستان کرکٹ میں آن لائن سٹے بازی اور جوئے سے متعلق ایک انکوائری کے سلسلے میں بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا گیا۔ رضوان کو جاری کیے گئے نوٹس کے مطابق انکوائری 4 ستمبر 2026 کو رجسٹر ہوئی اور انہیں 10 ستمبر کو لاہور میں این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔ نوٹس میں یہ بھی درج ہے کہ انکوائری کے سلسلے میں ان کا بیان درکار ہے۔
یہی نوٹس بعد میں محمد رضوان کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ جانے کی ایک بڑی وجہ بھی بنا۔ رضوان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ انہیں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان کے خلاف مخصوص الزام کیا ہے یا انہوں نے کون سی غیر قانونی سرگرمی کی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے این سی سی آئی اے کے سامنے بھی یہی وضاحت مانگی لیکن انہیں تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
17 ستمبر یعنی آج کو لاہور ہائی کورٹ نے رضوان کی این سی سی آئی اے کے نوٹس کے خلاف درخواست خارج کر دی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سماعت کے دوران رضوان کے وکیل سے کہا کہ چونکہ وہ 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہو چکے ہیں، اس لیے انہیں ادارے کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے اور نوٹس کا جواب دینا چاہیے۔
لیکن یہاں سے کہانی مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے کیونکہ این سی سی آئی اے کی کارروائی صرف آن لائن بیٹنگ اور جوئے کے نوٹس تک محدود دکھائی نہیں دیتی۔ محمد رضوان اور امام الحق دونوں کو ستمبر کے آغاز میں این سی سی آئی اے لاہور کے دفتر طلب کیا گیا تھا۔ ڈان نیوز کے مطابق دونوں سے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران پاکستانی ٹیم کے ڈریسنگ روم سے مبینہ معلومات لیک ہونے کے معاملے پر پوچھ گچھ کی گئی۔ ڈان نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ کارروائی پی سی بی کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے بعد ہوئی۔
جیو نیوز کے مطابق رضوان اور امام سے انگلینڈ میں ان کے رابطوں اور ملاقاتوں کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے جبکہ ان کے موبائل فونز کا فرانزک اور تکنیکی تجزیہ کیا گیا۔ پیغامات، رابطوں اور دیگر ڈیجیٹل معلومات کے ساتھ ساتھ مالی معاملات اور مبینہ مشکوک لین دین کا بھی جائزہ لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
یہاں ایک اہم پیش رفت 17 ستمبر کو یعنی آج سامنے آئی۔ دی نیوز نے این سی سی آئی اے کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ رضوان اور امام کے موبائل فونز کے ابتدائی فرانزک تجزیے میں کوئی قابل ذکر مواد سامنے نہیں آیا۔ رپورٹ کے مطابق پیغامات، رابطوں اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا تاہم ابتدائی مرحلے میں کوئی اہم شواہد نہیں ملے۔ البتہ مالی معاملات، بینک اکاؤنٹس اور لین دین کی مزید جانچ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی سی بی اکتوبر میں سری لنکا انڈر 17 ٹیم کی میزبانی کرے گا
محمد رضوان نے بھی این سی سی آئی اے کو تحریری جواب بھیجا۔ جیو نیوز کے مطابق انہوں نے جواب میں بنیادی طور پر یہ وضاحت طلب کی کہ انہیں این سی سی آئی اے نے کیوں طلب کیا، ان کا موبائل فون اب تک واپس کیوں نہیں کیا گیا اور ان کے خلاف کس مبینہ ڈسپلنری خلاف ورزی کی تحقیقات کی جا رہی ہیں؟
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد پاکستانی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ رضوان اور امام سمیت سات کھلاڑیوں کو لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد ٹیسٹ سکواڈ سے ریلیز کردیا گیا جبکہ کوچنگ سٹاف میں بھی تبدیلیاں ہوئیں۔ اس کے بعد پی سی بی نے امام اور رضوان کو انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے دوروں کے لیے ٹیسٹ سکواڈ میں شامل کرنے پر سلیکشن کمیٹی سے وضاحت بھی طلب کی۔
دوسری طرف امام الحق کے حوالے سے معاملہ مزید سنگین نوعیت کی رپورٹس تک پہنچا۔ مختلف میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے دعوے سامنے آئے کہ امام کے خلاف مبینہ طور پر انجری سے متعلق غلط بیانی، ڈریسنگ روم کی معلومات لیک کرنے اور ٹیم ڈسپلن کی خلاف ورزی جیسے معاملات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ یہ دعوے میڈیا رپورٹس میں ذرائع نے کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:گجرات پولیس میں کرپشن کے خلاف بڑا ایکشن، رشوت کے الزامات پر 5 پولیس اہلکار معطل
یاد رہے کہ این سی سی آئی اے کا نوٹس انکوائری کا حصہ ہے اور فردِ جرم یا جرم ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں ہے۔ اور فی الحال اصل سوال یہی ہے کہ این سی سی آئی اے کی مکمل تحقیقات اور مالی معاملات کی جانچ کے بعد کیا حتمی نتیجہ سامنے آتا ہے؟ لہٰذا تحقیقات مکمل ہونے اور کسی حتمی نتیجے کے سامنے آنے تک کسی بھی الزام کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔













