پولیس کے مطابق ایک شہری نے اپنے تین کمسن بچوں کو سیر پر لے جانے کے بہانے اپر جہلم کینال میں پھینک دیا ۔
یہ جہلم میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ ہے پولیس کے مطابق راجہ ذیشان نامی شہری اپنے تین کم عمر بچوں کو گاڑی میں سیر کروانے کے بہانے لے کر گیا۔ بچوں میں آٹھ سالہ، پانچ سالہ اور ڈھائی سالہ بچے شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کو باہر لے جانے اور کھانا کھلانے کے بعد ملزم نے مبینہ طور پر انہیں اپر جہلم کینال میں پھینک دیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور بچوں کی تلاش کے لیے غوطہ خوروں کو طلب کیا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق نہر کئی کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے اور پانی کا بہاؤ بھی تیز ہے جس کی وجہ سے تلاش کا دائرہ وسیع کرنا پڑا ،پانی کے تیز بہاؤ کے باعث بچے آگے بہہ گئے ہوں، اسی لیے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں؛ سیالکوٹ میں گھریلو تنازع پر سفاک باپ نے 3 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد راجہ ذیشان کچھ وقت کے لیے روپوش ہوگیا تھا اور اس نے سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر بھی اپ لوڈ کیں۔ بعد میں تھانہ منگلا پولیس نے اسے گرفتار کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش ملزم نے بچوں کو نہر میں پھینکنے کا اعتراف کیا ہے۔
پولیس کے مطابق تقریباً 6 ماہ قبل اس کا اپنی اہلیہ کے ساتھ گھریلو تنازع ہوا تھا جس کے بعد اہلیہ اپنے والدین کے گھر چلی گئی تھی، چند روز قبل دونوں میں صلح ہوئی اور اہلیہ واپس گھر آگئی ۔ پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ملزم منشیات کا استعمال کرتا ہے۔
فی الحال ریسکیو ٹیمیں اپر جہلم کینال میں بچوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ پولیس نے گرفتار شخص سے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔














