محمد رضوان کی این سی سی آئی اے میں طلبی ،لاہور ہائیکورٹ نے وکیل کو جھاڑ پلا دی ، درخواست بھی خارج

لاہور(پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد رضوان کی این سی سی آئی اے کے نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر سماعت کی۔

سابق کپتان محمد رضوان عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ "کیا نوٹس آپ کو ملزم بناتا ہے؟” عدالت نے مزید کہا کہ "آپ کو بھاری جرمانہ ہونا چاہئے اتنی سستی جواب دینے میں۔”

عدالت نے ریمارکس دیے کہ دس تاریخ کا نوٹس تو اب ختم ہو گیا ہے۔ اس پر رضوان کے وکیل قاضی عمیر نے بتایا کہ جناب این سی سی آئی اے نے دوبارہ نوٹس کردیا ہے۔
عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ "آپ وہاں پیش ہوکر اپنا موقف پیش کریں۔” بعد ازاں عدالت نے محمد رضوان کی درخواست خارج کردی۔

یہ بھی پڑھیں: ایشین گیمز 2026، پاکستان کرکٹ ٹیم 24 ستمبر کو جاپان روانہ ہوگی

درخواست میں محمد رضوان کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ این سی سی آئی اے نے انہیں کرکٹ کے کھیل میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے کے الزامات سے متعلق طلبی کے نوٹس جاری کیے۔

درخواست میں کہا گیا کہ محمد رضوان قانون کے تابع اور باعزت شہری ہیں، انہوں نے اپنی اہلیت کے مطابق پاکستان کرکٹ میں سابق کپتان اور وکٹ کیپر بیٹسمین کی حیثیت سے خدمات سرانجام دی ہیں۔

محمد رضوان کی درخواست کے مطابق این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری طلبی کے نوٹس بوگس، غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے باہر ہیں، جبکہ نوٹس درخواست گزار کو بلیک میل کرنے کے لیے جاری کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی سی بی اکتوبر میں سری لنکا انڈر 17 ٹیم کی میزبانی کرے گا

درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا کہ محمد رضوان 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے میں پیش ہوئے اور مختلف سوالات کے جوابات دیے۔ این سی سی آئی اے کے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ درخواست کے فیصلے تک این سی سی آئی اے کو کارروائی سے روکا جائے، تاہم لاہور ہائیکورٹ نے درخواست خارج کردی

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے